Urdu book · راہِ عمل

دعوت کا میدان

Urdu book, p. 149

By Maulana Wahiduddin Khan

میری بات سن کر کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ آج کل تو سبھی لوگ داعی اور دعوت کی باتیں کر رہے ہیں۔ موجودہ مسلمان اس کی اہمیت سے غافل نہیں۔ میں نے کہا کہ جن لوگوں کی بابت آپ فرما رہے ہیں وہ اس معاملے میں ابھی صرف آدھی بات سے واقف ہیں۔ انہوں نے ’’داعی‘‘ کے معاملے کو تو جانا ہے، مگر انہوں نے ’’مدعو‘‘ کے معاملے کو ابھی تک نہیں جانا۔ میں نے کہا کہ دعوت کوئی تقریری نمائش یا قومی فخر کے اظہار کا نام نہیں۔ دعوت ایک انتہائی سنجیدہ عمل ہے۔ دعوت کی اصل بندوں کی خیر خواہی ہے جس کو قرآن میں نصیحت کہا گیا ہے۔ (الاعراف،69-6:68) موجودہ زمانے کے مسلمان ایک بے برداشت قوم ہیں۔ جب کہ داعی از اول تا آخر ایک برداشت کرنے والی شخصیت ہوتا ہے۔ موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ تمام قوموں کو اپنا حریف اور رقیب بنائے ہوئے ہیں۔ ایسی حالت میں کسی حقیقی دعوتی عمل کا وجود میں آنا ممکن نہیں۔ مدعو کو اپنا محبوب بنانا پڑتا ہے، اس کے بعد ہی دعوت کے عمل کا آغاز ہوتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page