دعوت کا میدان
Urdu book, p. 148
By Maulana Wahiduddin Khan
پولیٹکس اورینٹڈ، (politic-oriented) ہونا چاہیے۔ کوئی کہتا ہے کہ دعوت کو سسٹم اورینٹڈ (system-oriented) ہونا چاہیے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دعوت کا ایک ہی صحیح طریقہ ہے ۔ اور وہ یہ کہ وہ آخرت اورینٹڈ (akhirat-oriented) ہو۔ یعنی قرآن کے الفاظ میں، یوم الازفہ (المؤمن، 18:23) سے ڈرانا۔ موت کے بعد آنے والے سنگین مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کرنا۔ یہی دعوت الی اللہ کا اصل مقصد ہے۔ اس کے سوا اگر کچھ ہے تو وہ اس کے اضافی اجزاء ہیں، نہ کہ اس کے حقیقی اجزاء۔ ان مسلمانوں کا معاملہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ”داعی“ ہونے کو جانا مگر انہوں نے دوسروں کے ”مدعو“ ہونے کو دریافت نہیں کیا۔ وہ اپنے حقوق کی فہرست سے مبالغہ آمیز حد تک واقف ہیں، مگر فریق ثانی کے بارے میں وہ ضروری حد تک بھی اپنی ذمہ داریوں کو نہیں جانتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی دعوت ذاتی فخر کا اظہار تو ہے مگر وہ صبر و اعراض کا جہاد نہیں۔ اس میں اپنی برتری کی تسکین ہے مگر اس میں تواضع کی نفسیات نہیں۔ اس میں دوسروں پر غلبہ حاصل کرنے کا جوش ہے مگر اس میں دوسروں کو ہدایت طلبی کی تڑپ نہیں۔ اس کے اندر ”میں“ کی پوری رعایت پائی جاتی ہے مگر اس کے اندر ”وہ“ کی کوئی رعایت موجود نہیں۔ ایسا عمل ایک قومی عمل تو ہو سکتا ہے، مگر وہ کوئی دعوتی عمل نہیں۔ ایسے عمل سے ان نتائج کی امید نہیں کی جاسکتی جو ایک حقیقی دعوتی عمل کے لیے خدا کی طرف سے مقرر کی گئی ہیں۔ ایک سفر میں میری ملاقات کچھ لوگوں سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ یہ جانیں کہ ان کا تعلق دوسری قوموں کے ساتھ داعی اور مدعی کا ہے، نہ کہ حریف اور رقیب کا۔ ایک صاحب نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader