سبب اپنے اندر
Urdu book, p. 151
By Maulana Wahiduddin Khan
تھی کہ مسلمانوں کے اندر فکری انقلاب اور ایمانی حرارت پیدا کرنے سے اپنی کوشش کا آغاز کیا جائے۔ مگر مسلمانوں کے تمام رہنما بدستور اغیار کے حملوں کو سببِ زوال قرار دے کر ان سے بے فائدہ لڑائی لڑتے رہے۔ جب بیج ہی نہ ڈالا گیا ہو تو درخت کہاں سے اُگے گا۔ چنانچہ بے شمار قربانیوں کے باوجود احیاءِ ملت کا خواب بھی پورا نہیں ہوا۔ تقریباً 300 سال سے مسلمانوں کے اوپر دفاعی ذہن چھایا ہوا ہے۔ ان کے رہنماؤں کی بیشتر سرگرمیوں کا نشانہ کسی نہ کسی بیرونی خطرہ کا دفاع ہوتا ہے۔ اس مدت میں ہر رہنما کی سوچ، خارج رخی رہی ہے۔ اگر کسی نے داخلی انداز سے سوچا ہے تو وہ بھی اپنی عمر کے آخری حصہ میں، جب کہ وہ قبر کے کنارے پہنچ چکا تھا، اور اس کے لیے مزید کام کرنے کا موقع ختم ہو چکا تھا۔ دفاعی کام، خواہ وہ کتنا ہی ضروری ہو، بہرحال وہ وقتی ہوتا ہے۔ دفاعی کام کسی بھی حال میں تعمیر کام کا بدل نہیں۔ اصل کام بہرحال وہ ہے جو مسلمانوں کے داخلی تعمیر کے محاذ پر مثبت انداز میں کیا جائے۔ مگر سیاسی زوال کے دور سے لے کر اب تک مسلمانوں میں کوئی بھی قابلِ ذکر گروہ نظر نہیں آتا جو حقیقی طور پر داخلی تعمیر کے میدان میں سرگرم ہوا ہو۔ بیرونی خطرات اور مسائل کی موجودگی اس کوتاہی کے لیے کافی عذر نہیں۔ کیوں کہ موجودہ امتحان کی دنیا میں خطرات اور مسائل ہمیشہ باقی رہتے ہیں اور وہ ہمیشہ باقی رہیں گے۔ موجودہ دنیا میں بیرونی مسائل کے باوجود داخلی تعمیر کا کام کرنا پڑتا ہے۔ منفی اسباب کے باوجود مثبت عمل کے راستہ پر سرگرم ہونا پڑتا ہے۔ یہاں کامیابی صرف اس کے لیے ہے جو خارجی حملوں کے باوجود اپنی ساری توجہ داخلی محاذ پر لگا دے۔ اگر ”باوجود“ کے اس اصول کا لحاظ نہ کیا جائے تو صدیاں گزر جائیں گی اور مثبت کام کبھی شروع نہ ہو سکے گا۔ اور مثبت تعمیری عمل کے بغیر ملت کا احیاء ممکن نہیں۔ خارجی دفاع کی کوئی بھی مقدار داخلی تعمیر کا بدل نہیں بن سکتی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader