ایک مثال
Urdu book, p. 152
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مثال عرابی پاشا (1911-1839) مصر کے ایک سیاسی لیڈر تھے۔ ان کا نعرہ تھا: مصر للمصریین (مصر مصریوں کے لیے)۔ ان کے زمانے میں مصر میں خدیو اسماعیل پاشا کی حکومت تھی۔ انہوں نے خدیو کو غدار قرار دیا۔ ان کو یہ شکایت تھی کہ خدیو اسماعیل پاشا مغربی طاقتوں کا ایجنٹ ہے۔ چنانچہ انہوں نے خدیو اسماعیل پاشا کے خلاف بغاو ت کر دی۔ یہ 1881 کا واقعہ ہے۔ مگر ان کی بغاوت مکمل طور پر ناکام رہی۔ خدیو اسماعیل پاشا نے اپنے بچاؤ کے لیے برطانیہ سے مدد مانگی۔ برطانیہ نے فوراً ان کی پکار پر لبیک کہا۔ چنانچہ برطانی فوجوں کی مدد سے بغاوت کچل دی گئی اور عرابی پاشا کو گرفتار کر لیا گیا۔ مزید یہ ہوا کہ 1882 میں مصر پر برطانیہ کا اقتدار قائم ہو گیا۔ اس بغاوت میں عرابی پاشا کا جن لوگوں نے ساتھ دیا ان میں فوجی لوگوں کے علاوہ مشہور دینی مصلح شیخ محمد عبدہ، (1905-1849) اور ان کے ساتھی بھی شامل تھے۔ تاہم شیخ محمد عبدہ اور ان کے ساتھیوں کی شمولیت کے باوجود بغاوت کامیاب نہ ہوسکی۔ ”اسلام“ کو مصر کا تخت دلانے کی کوشش میں ”انگریز“ مصر کے تخت پر قابض ہو گئے۔ شیخ محمد عبدہ اسلام کے علم بردار تھے۔ دوسری طرف انگریز غیر اسلام کا جھنڈا اٹھائے ہوئے تھے۔ مگر اس کے مقابلے میں اسلام کے علم بردار مکمل طور پر ناکام رہے۔ اور غیر اسلام کے علم برداروں کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔ یہ ایک واضح مثال تھی کہ محض اسلام کے نام پر جھنڈا لے کر اٹھنا مقابلہ کی اس دنیا میں کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔ کامیابی کے لیے حقیقی حالات کی مساعدت بھی ناگزیر طور پر ضروری ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اسی مصر میں ٹھیک یہی ناکام کہانی دوبارہ 1952 میں دہرائی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader