Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

خواجہ فرید الدین کے ہم عصر اور خلیفہ حضرت نظام الدین اولیاء تھے۔ انہوں نے اپنی مجلس میں فرمایا کہ عام لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ سیدھے کے ساتھ سیدھا اور ٹیڑھا ھو کے ٹیڑھاھا۔ لیکن ہمارے بزرگ کا یہ کہنا ہے کہ سیدھوں کے ساتھ سیدھا، اور ٹیڑھوں کے ساتھ سیدھا۔ اگر کوئی شخص ہمارے سامنے کانٹا ڈالے اور ہم بھی کانٹا ڈالیں تو کانٹے ہی کانٹے ہو جائیں گے۔ اگر کسی نے کانٹا ڈالا ہے تو تم اس کے سامنے پھول ڈالو۔ پھر پھول ہی پھول ہو جائیں گے۔ اسلام کی طاقت صوفیاء، بطور خود تو پیغام محبت لے کر اٹھے تھے۔ مگر ان کا پیغام محبت بالواسطہ طور پر پیغام دعوت بن گیا۔ انہوں نے اپنی طرف سے محبت اور امن کی فضا بنائی۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ لوگ ضد اور تعصب کے بغیر اسلام کو دیکھنے لگے۔ وہ اس قابل ہو گئے کہ جب وہ اسلام کا مطالعہ کریں یا مسلمانوں سے تعلقات کے دوران جب اسلام کی کوئی بات سامنے آئے تو معتدل ذہن کے ساتھ اس پر سوچ سکیں ۔ صوفیاء کے پیدا کردہ ماحول نے لوگوں کے درمیان اور اسلام کے درمیان ہر قسم کی نفسیاتی رکاوٹ کو ختم کر دیا۔ جب ایسا ہوا تو لوگ کثرت سے اسلام کی طرف مائل ہونے لگے۔ انہوں نے جوق در جوق اسلام قبول کرنا شروع کر دیا۔ آج بھی یہی تاریخ دہرائی جاسکتی ہے، بشرطیکہ مسلمان صوفیاء کی تاریخ کو دہرانے کے لیے تیار ہوں۔ وہ داعی اور مدعو کے درمیان یکطرفہ طور پر نفرت اور کشیدگی کی فضا ختم کر کے دوبارہ وہ معتدل ماحول بنائیں جب کہ لوگ کسی توحش کے بغیر اسلام کو دیکھیں اور اس کو اپنے دل کی آواز پا کر اسے اختیار کر لیں۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی مدعو قوموں سے اسلام کے نام پر بے شمار جھگڑے چھیڑے ہوئے ہیں۔ ان جھگڑوں نے مدعو قوموں کے اندر اسلام کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page