Urdu book · راہِ عمل

ایک اہم سبق

Urdu book, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغام دیتے تھے۔ وہ اپنے تمام معاملات میں ہمیشہ رواداری کا طریقہ برتتے تھے۔ حتیٰ کہ ان کی درگاہ میں جو لنگر تیار کیا جاتا تھا، وہ بھی ”ویجیٹیریئن “ ہوتا تھا، تاکہ ہندو اور مسلمان دونوں یکساں طور پر اس کے کھانے میں شریک ہوسکیں۔ ہندوستان کے اسلامی سیاست دانوں کے نظریہ کو اگر مختصر طور پر بیان کرنا ہو تو اس کو علامہ اقبال کے اس شعر میں بیان کیا جاسکتا ہے: مصلحت دردِ دینِ عیسیٰ غارِ کوہ مصلحت دردِ دینِ ما جنگ و شکوہ صوفیاء حضرات کا نظریہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ وہ جنگ کے بجائے صلح کا تھا۔ ایک فارسی شاعر نے صوفیاء کے نظریۂ حیات کو چند لفظوں میں اس طرح بیان کیا ہے: ما قصۂ سکندر و دارا نہ خواندہ ایم از ما بجز حکایتِ مہر و وفا مپرس صوفیاء کے نظریۂ حیات کو تفصیل کے ساتھ سمجھنے کے لیے ان کے ملفوظات اور ان کے حالات کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔ یہاں ہم مختصر طور پر دو قصے نقل کریں گے جس سے صوفیاء کے طریقِ کار کا اندازہ ہوتا ہے۔ خواجہ فرید الدین گنج شکر مشہور بزرگ ہیں۔ وہ 12 ویں صدی عیسوی (چھٹی صدی ہجری) سے تعلق رکھتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا ایک مریدان کے پاس قینچی لے کر آیا۔ اس کے شہر میں قینچیاں بنتی تھیں ۔ اس لیے اس نے شیخ کے تحفہ کے لیے قینچی کا انتخاب کیا۔ وہ سمجھتا تھا کہ جب میں شیخ کے سامنے اپنے شہر کا یہ خصوصی تحفہ پیش کروں گا تو وہ خوش ہوں گے اور مجھے دعائیں دیں گے۔ مگر جب اس نے شیخ کے سامنے قینچی پیش کی تو انہوں نے اس کو دیکھ کر کہا کہ یہ تو ہمارے کام کی چیز نہیں۔ ہمارا کام کاٹنا نہیں، ہمارا کام تو جوڑنا ہے۔ اور یہ کام قینچی کے ذریعے نہیں ہوتا۔ تم کو اگر تحفہ لانا تھا تو ہمارے لیے سوئی لے آتے۔ کیوں کہ سوئی سینے اور جوڑنے کی چیز ہے، اور قینچی کاٹنے اور پھاڑنے کی چیز۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page