ایک جائزہ
Urdu book, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک جائزہ پچھلے صفحات میں بتایا جا چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت شدت کے ساتھ بار بار یہ ہدایت دی تھی کہ اگر تم حکمرانوں میں سیاسی بگڑ دیکھو تو ہرگز ان سے ٹکراؤ نہ کرو، بلکہ اپنے ممکن مواقع کے دائرے میں اپنی جدوجہد جاری رکھو۔ اپنے ممکن دائرے میں جدوجہد کرنا عمل ہے اور حکمرانوں سے ٹکرانا رد عمل۔ اور اسلام اپنے تعمیری اور دعوتی مزاج کی بنا پر عمل کا طریقہ پسند کرتا ہے۔ اس کو رد عمل سے قطعاً کوئی دلچسپی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تعلیم کا اثر نہ صرف علماء اور عوام پر گہرا تھا بلکہ اس نے خود حکمرانوں کو بھی کافی متاثر کیا۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ تقریباً ہزار سال تک اسلام کی ترقی بلا انقطاع جاری رہی۔ ترقی اور اشاعت کا یہ غیر معمولی سلسلہ صرف موجودہ زمانے میں اس وقت رکا ہے جب کہ پرجوش اسلام پسندوں نے اس حکم نبوی کی خلاف ورزی شروع کر دی۔ حکمرانوں پر اثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر عمل کرنے کا یہ نتیجہ تھا کہ بعد کے دور میں اگر چہ "خلیفہ" کی جگہ "سلطان" ہونے لگے، مگر جو کچھ بگڑ آیا وہ محدود معنوں میں صرف سیاسی تھا اور شاہی محلوں کے دائرہ تک محدود رہا۔ عمومی سطح پر مسلم معاشرہ میں بدستور اسلامی زندگی کا تسلسل جاری رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک ہزار سال تک مسلم معاشرہ کسی بڑی خرابی سے پاک رہا۔ مزید یہ کہ اسی عمومی اصلاح کا یہ نتیجہ تھا کہ خود سلاطین اور حکمران کا بگڑ بھی ایک حد کے اندر باقی رہا، وہ حد سے آگے نہ بڑھ سکا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader