ایک جائزہ
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ خلافت راشدہ کے بعد پورے ہزار سالہ دور میں علماء اور مصلحین بادشاہوں پر کھلم کھلا تنقید کرتے تھے، وہ ان کے بہت سے احکام کو سرے سے نظر انداز کرتے تھے۔ اس کے باوجود کسی بادشاہ یا حکمراں کو یہ ہمت نہ ہوتی تھی کہ وہ ان کے خلاف کوئی جابرانہ کارروائی کر سکے۔ حضرت عبداللہ بن عمر یزید بن معاویہ کے ہم عصر تھے۔ انہوں نے آخر وقت تک یزید کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی۔ مگر یزید کو یہ ہمت نہ ہوسکی کہ وہ عبداللہ بن عمر سے جبری بیعت لے یا ان کو قتل کرا دے۔ ہارون الرشید کے ایک معاصر بزرگ نے خلیفہ سے مصافحہ کیا تو ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ہارون الرشید نے رونے کا سبب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ ہاتھ کتنے نرم ہیں، کاش وہ جہنم کی آگ سے بھی محفوظ رہ سکیں۔ اس سخت کلام کے باوجود خلیفہ نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی۔ اسپین کا سلطان عبدالرحمن الناصر جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے قرطبہ کی جامع مسجد میں گیا۔ وہاں جامع مسجد کے خطیب نے جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے علی الاعلان سلطان پر تنقید کی۔ مگر سلطان کو یہ ہمت نہ ہوسکی کہ وہ انہیں خطیب کے عہدہ سے معزول کر دے یا ان کی سزا کا فرمان جاری کرے۔ القول الجلی (صفحہ 162) میں بتایا گیا ہے کہ امام ابن تیمیہ قازان کے دربار میں داخل ہوئے جو ایک مسلم سلطان تھا۔ اس نے کھانا پیش کیا۔ دوسرے لوگوں نے اس کو کھایا مگر ابن تیمیہ نے نہیں کھایا۔ قازان نے پوچھا کہ آپ نے کھانا کیوں نہیں کھایا۔ ابن تیمیہ نے جواب دیا کہ میں کیسے تمہارا کھانا کھاؤں جب کہ وہ لوگوں کے اموال کو چھین کر تیار کیا گیا ہے اور غصب کیے ہوئے درخت کی لکڑیوں پر اس کو پکایا گیا ہے۔ وغیرہ۔ ابن تیمیہ کے ساتھی کہتے ہیں کہ جب ابن تیمیہ قازان کے سامنے اس قسم کی تقریر کر رہے تھے تو ان کی بے باکی کو دیکھ کر ہمیں یقین ہو گیا کہ اب وہ ضرور قتل کر دیے جائیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader