Urdu book · راہِ عمل

اتباعِ صراط، اتباعِ سُبل

Urdu book, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

بسم اللہ الرحمن الرحیم اتباع صراط، اتباع سُبل پچھلی امتوں میں جو خرابیاں پیدا ہوئیں، ان میں سے ایک بنیادی خرابی یہ تھی کہ وہ مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔ اور خدا کے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا: مِنَ الَّذِيْنَ فَـرَّقُوْا دِيْنَهُمْ ۔ (30:32) یہی خطرہ شدید طور پر اگلی امت کے لیے بھی تھا۔ اس لیے قرآن وحدیث میں نہایت تاکید کے ساتھ اہل اسلام کو یہ نصیحت کی گئی کہ تم ان کی پیروی نہ کرنا: وَلَا تَكُوْنُوا كَالَّذِيْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْبَيِّنَتُ ە وَاُولٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ ۔ (3:105) یعنی، اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور باہم اختلاف کر لیا بعد اس کے کہ ان کے پاس واضح احکام آ چکے تھے۔ اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ اس سلسلے میں قرآن میں جو ہدایات دی گئی ہیں، ان کا خلاصہ مندرجہ ذیل آیت میں ملتا ہے: وَاَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ ە وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ ۔ (6:153) یعنی، (اے پیغمبر کہہ دو کہ) یہ میری راہ ہے سیدھی۔ پس تم اس پر چلو اور (متفرق) راستوں پر نہ چلو وہ تم کو اللہ کے راستے سے جدا کر دیں گے۔ یہ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے تا کہ تم بچو۔ اس آیت کی تشریح ایک روایت میں ملتی ہے۔ یہ روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page