اتباعِ صراط، اتباعِ سُبل
Urdu book, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، رضي الله عنه -قَالَ: خَطَّ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يوماً خَطّاً بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: ”هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ مُسْتَقِيماً“. وَخَطَّ عَلَى يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَ: ”هَذِهِ السُّبُلُ لَيْسَ مِنْهَا سَبِيلٌ إِلَّا عَلَيْهِ شَيْطَانٌ يَدْعُو إِلَيْهِ“. ثُمَّ قَرَأَ: ”وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيماً فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 4437) یعنی، حضرت عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز ہمارے سامنے ایک سیدھی لکیر کھینچی۔ پھر فرمایا کہ یہ اللہ کا راستہ ہے۔ اس کے بعد آپ نے اس سیدھی لکیر کے دائیں اور بائیں لکیریں کھینچیں پھر فرمایا کہ یہ متفرق راستے ہیں۔ ان میں سے ہر راستہ پر ایک شیطان ہے جو اس کی طرف بلاتا ہے۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی: اور یہ میرا سیدھا راستہ ہے، پس تم اسی کی پیروی کرو۔ (6:153) ان آیتوں اور حدیثوں کے مطابق عمل کے دو طریقے ہیں۔ ایک اتباع صراط، اور دوسرے اتباع سُبل۔ ان دونوں طریقوں میں جو فرق ہے وہ اسلام اور کفر کا نہیں ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ ان میں سے ایک کھلی ہوئی دینداری ہے اور دوسری کھلی ہوئی بے دینی۔ بلکہ یہ دونوں ہی دین کے نام پر کیے جانے والے عمل ہیں۔ تاہم دین کے نام پر کیے جانے کے باوجود ان میں سے ایک مطلوب دینداری ہے اور دوسری غیر مطلوب دینداری۔ چنانچہ قرآن کی دوسری سورہ میں ان میں سے ایک کو اقامت دین اور دوسرے کو تفَرّق فی الدّین سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (42:13) اب دیکھیے کہ اتباع صراط کیا ہے اور اتباع سُبل کیا ہے۔ صراط کے معنی سیدھی اور وسیع شاہراہ کے ہیں۔ اور سُبل سے مراد متفرق راستے ہیں۔ دوسری آیتوں کے مطالعے سے معلوم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader