داعیانہ جذبہ
Urdu book, p. 93
By Maulana Wahiduddin Khan
میں فرکس کا نوبل انعام دیا گیا تھا: مری گل مان کو جب وہ دریافت ہوئی جس پر اس کو نوبل انعام کا مستحق سمجھا گیا تو اس کے اندر اس بات کی بے پناہ تڑپ جاگ اٹھی کہ وہ اپنی اس دریافت سے لوگوں کو باخبر کرے۔ اس مقصد کے لیے اس نے ایک انوکھی تدبیر کی۔ اس نے امریکہ کے ایک شہر آسپن (Aspen) میں کیبرے کی ایک تقریب کا انتظام کیا۔ اور اس میں تعلیم یافتہ لوگوں کو مدعو کیا۔ لوگ بڑی تعداد میں جمع ہوئے۔ تقریب شروع ہوئی۔ یہاں تک کہ وہ اپنے شباب پر پہنچ گئی۔ اس کے بعد ایک دھما کہ خیز واقعہ ہوا۔ رپورٹر کے الفاظ میں یہ تھا: کیبرے کے شو کے آخر میں فرکس کا عالم مرے گال مان حاضرین کے درمیان سے کود کر نکلا۔ وہ تیزی سے سٹیج تک پہنچا اور چلا کر کہا۔ ہر چیز کو روک دو۔ مجھے آپ لوگوں کے سامنے کائنات کے نظریہ کی وضاحت کرنی ہے۔ میں نے یہ جان لیا ہے کہ ہر چیز کس طرح عمل کرتی ہے۔ کسی آدمی پر ایک بڑی حقیقت کا انکشاف ہو جائے تو وہ اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ اس کا اعلان نہ کرے ۔ وہ ہر قیمت پر اس کا اعلان کرے گا۔ اس وقت تک اس کو چین نہیں آئے گا جب تک وہ دنیا والوں کو اس سے باخبر نہ کر دے۔ دریافت ایک بھونچال ہے۔ دریافت آدمی کو داعی بنا دیتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader