Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 92

By Maulana Wahiduddin Khan

سبز پنجرہ (verdant cage) معلوم ہوتا ہے۔ ایک دولت مند نے کہا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر میں دولت کے اس انبار کو کیا کروں : “I didn’t know what the hell to do with it.” (p.43) ” مادی مذہب“ کے بارے میں اس قسم کے تجربات نے جدید انسان کو مادی مذہب کی طرف سے بے یقینی میں مبتلا کر دیا ہے۔ مادیت نہ فکری سطح پر انسان کو اس کے سوالات کا جواب دے سکی اور نہ عملی سطح پر اس کو وہ سکون دے سکی جو اس کی فطرت تلاش کر رہی تھی ۔ محرف مذہب اور مادی مذہب دونوں سے بیزار ہو کر انسان اب ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں اس کے لیے آخری چارہ کار صرف یہ ہے کہ وہ غیر محرف مذہب کا تجربہ کرے۔ وہ بگڑے ہوئے مذاہب اور خود ساختہ ازموں (isms) کو چھوڑ کر خدا کے سچے دین کے سائے میں آجائے۔ اس قسم کے بے شمار پہلو ہیں جن میں سے چند کو میں نے نہایت اختصار کے ساتھ یہاں بیان کیا ہے ۔ یہ مثالیں بتاتی ہیں کہ جدید حالات اور جدید فکری انقلاب نے آج کے انسان کو کس طرح عین اسلام کے کنارے پہنچا دیا ہے ۔ آج تمام انسان مجہول طور پر اسی طرح اسلام کے طالب بن چکے ہیں جس طرح قدیم زمانہ جاہلیت میں حنفاء اسلام کے مجہول طالب بنے ہوئے تھے ۔ اس صورت حال نے دعوت کے لیے نئے وسیع تر امکانات کے دروازے کھول دیے ہیں۔ اگر ان نئے امکانات کو درست طور پر استعمال کیا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اکیسویں صدی اسلام کی صدی ثابت ہوگی۔ داعیانہ جذبہ آخر میں ایک واقعہ نقل کرنا چاہتا ہوں جو اس معاملے میں ہمارے لیے مہمیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ واقعہ مرے گل مان کا ہے جو ایک امریکی سائنس داں ہے اور جس کو 1969

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page