Urdu book · رہنماے حیات

قدرتی ڈھال

Urdu book, p. 101

By Maulana Wahiduddin Khan

مایوسی نہیں ایک نوجوان اپنے خط میں لکھتے ہیں کہ میں دو مرتبہ لگا تار انجینئرنگ کا پٹیشن میں بیٹھا مگر دونوں بار نا کام رہا۔ اس کے بعد مجھے سخت مایوسی ہوئی۔ میں ہر وقت فکرمند رہنے لگا۔ یہاں تک کہ ذہنی طور پر بھی میں کمزور ہو گیا۔ پچھلے سال اتفاقاً الرساله (اردو) میری نظر سے گزرا۔ اس کے اندر مجھے نئی روشنی معلوم ہوئی ۔ میں الرسالہ کا مستقل قاری بن گیا۔ خدا کے فضل سے اب میں اپنے اندر حوصلہ اور ہمت اور محنت کرنے کا جذ بہ پارہا ہوں (اشتیاق احمد) زندگی میں ہر شخص کو نا کامی کے تجربات پیش آتے ہیں۔ عام طور پر لوگ اس قسم کے ناخوش گوار تجربات کو خارجی تعصب کے خانہ میں ڈال کر یہ سوچنے لگتے ہیں کہ موجودہ حالات میں میرے لئے آگے بڑھنے کا کوئی موقع نہیں۔ ترقی صرف کچھ خوش قسمت لوگوں کا مقدر ہے، وہ میرا مقدر نہیں۔ یہ سوچ سراسر غلط ہے۔ کوئی بھی خارجی سبب کبھی کسی آدمی کی ترقی میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ آدمی جب بھی نا کام ہوتا ہے یا اس کی ترقی رکتی ہے تو اس کا سبب خود اس کی اپنی ذات ہوتی ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ دوسروں کی شکایت کرنے کے بجائے خود اپنے آپ پر توجہ دے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ محنت کی کمی آدمی کو پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ کبھی آدمی اپنی صلاحیت کے خلاف اپنے لئے غیر موزوں کام کا انتخاب کرتا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ ایک بار کی کوشش کو آخری کوشش سمجھ لیتا ہے، حالانکہ حالات کا تقاضا ہوتا ہے کہ بار بار کوشش کی جائے۔ اس طرح کی مختلف داخلی کوتا ہیاں آدمی کو نا کامی سے دوچار کرتی ہیں۔ مگر آدمی کو چاہئے کہ وہ ہر نا کامی کو وقتی سمجھے۔ وہ اس کو آخری واقعہ کے بجائے درمیانی واقعہ قرار دے۔ وہ اپنی ساری سوچ خود اپنی کوتاہی کو دریافت کرنے میں لگا دے۔ اپنی کوتاہی سے بے خبری آدمی کو پست کر کے چھوڑ دیتی ہے۔ اور اپنی کوتاہی سے باخبری عمل کا جذبہ ابھار کر آدمی کو کامیابی کی منزل پر پہنچادیتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page