Urdu book · رہنماے حیات

قدرتی ڈھال

Urdu book, p. 102

By Maulana Wahiduddin Khan

جاننے کی بات ایک انگریز نے ایک مرتبہ مجھ سے اپنا ایک واقعہ بتایا۔ یہ واقعہ دسمبر ۱۹۷۳ء کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے انگلینڈ سے سوئزرلینڈ جانا تھا۔ وہاں زیورک میں میری بہن رہتی تھی، اس سے مجھے ملنا تھا۔ یہ سفر میں نے کار کے ذریعہ کیا۔ میں لندن سے روانہ ہوا اور اپنی گاڑی چلاتا ہوا سوئزرلینڈ میں داخل ہو گیا۔ انگلینڈ میں بائیں چلو (keep left) کا اصول ہے، اور سوئزرلینڈ میں دائیں چلو (keep right) کا اصول۔ میں زیورک (سوئزرلینڈ) میں داخل ہوا تو مجھے یاد نہ رہا کہ اب میں نئے ملک میں ہوں، اور اس ملک کے اصول کے مطابق یہاں مجھے اپنی گاڑی سڑک کے دائیں طرف چلانا چاہئے۔ اپنی پچھلی عادت کے زیراثر میں سڑک کے بائیں طرف اپنی گاڑی دوڑانے لگا۔ ابھی کسی حادثہ کی نوبت نہیں آئی تھی کہ ٹریفک کانسٹیبل نے مجھے دیکھ لیا۔ اس نے ویسل دے کر مجھے روکا۔ میرے قریب آ کر اس نے میری گاڑی کی پلیٹ دیکھی، میرا حلیہ دیکھا۔ اپنے تجربہ کی بنا پر وہ سمجھ گیا کہ معاملہ کیا ہے۔ اس نے جان لیا کہ یہ ایک انگلش آدمی ہے اور انگلش ہونے کی بنا پر سڑک کے بائیں طرف اپنی گاڑی دوڑا رہا ہے۔ اس کے بعد اس نے معنی خیز نظروں سے میری طرف دیکھا اور کہا کہ تم کو جاننا چاہئے کہ اس وقت تم انگلینڈ میں نہیں ہو۔ اس وقت تم سوئزرلینڈ میں ہو: You are not (in England now.) انسانی نظام کے اعتبار سے انگلینڈ اور سوئزرلینڈ میں فرق ہے۔ مگر ایک اور پہلو سے ساری دنیا کا معاملہ ایک ہے۔ وہ یہ کہ یہ دنیا خدا کی دنیا ہے۔ یہاں خدا کا قانون ہی واحد قانون ہے جو کسی آدمی کے لئے نجات اور کامیابی کا ضامن ہے۔ مگر ہر آدمی اس حقیقت سے بے خبر ہو کر اپنی زندگی کی گاڑی اپنی پسند کے رخ پر دوڑا رہا ہے۔ دنیا میں ہر قدم پر خدا کے فرشتے کھڑے ہوئے ہیں جو خاموش زبان میں کہہ رہے ہیں کہ اے انسان، تو اپنی دنیا میں نہیں ہے، تو خدا کی دنیا میں ہے۔ تو شخص اس آواز کو سن کر اپنا رخ درست کر لے وہ کامیاب ہے، اور جو شخص اس آواز کو نہ سنے، اس کے لئے بربادی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page