Urdu book · رہنماے حیات

قدرتی ڈھال

Urdu book, p. 123

By Maulana Wahiduddin Khan

چھوٹی معلوم ہوئی ۔ انہوں نے پوری حکومت پر قبضہ کرنے کی دھنوا دھار تحریک شروع کر دی مگر تمام کوششوں کے بعد آخر کار جو کچھ ہوا وہ یہ تھا کہ وہ چھوٹی چیز اور بڑی چیز دونوں ہی سے محروم ہو کر رہ گئے ۔ یہی موجودہ زمانہ کے اکثر مسلم رہنماؤں کی کہانی ہے ۔ وہ اپنی خیالی امنگوں میں اتنا گم ہوئے کہ انہیں حقائق و واقعات کی خبر نہ ہوسکی ۔ وہ بڑے بڑے نشانوں کو اپنا مقصد بنا کر ان کی طرف دوڑتے رہے ، حالانکہ یہ نشانے سرے سے ان کے لئے قابل حصول ہی نہ تھے ۔ اور جو چیز ان کے لئے حالات کے اعتبار سے قابل حصول تھی وہ انہیں دکھائی ہی نہ دی ۔ اسی غیر حقیقت پسندانہ مزاج کا نتیجہ ہے کہ ان مشہور رہنماؤں نے صرف ناکام اقدامات کی مثالیں قائم کیں ، وہ کامیاب اور نتیجہ خیز اقدام کی مثال قائم نہ کر سکے ۔ زیادہ کو پانے کی کوشش میں وہ تھوڑے سے بھی محروم رہے ۔ مسلم رہنماؤں کی اس بھیا تک غلطی کا سبب یہ تھا کہ تھوڑے کو وہ صرف تھوڑا سمجھے ، وہ تھوڑے کو زیادہ کے روپ میں نہ دیکھ سکے ۔ وہ زندگی کے اس راز سے نا آشنا ہے کہ عمل کا آغاز ہمیشہ تھوڑے سے کیا جاتا ہے ، زیادہ سے عمل کا آغاز ممکن نہیں ، جو آدمی اس راز کو سمجھ لے وہ تھوڑے سے شروع کر کے آخر کار زیادہ تک پہنچ جائے گا ۔ اور جو شخص اس راز کو نہ سمجھے وہ اپنے غیر حقیقت پسندانہ مزاج کی بنا پر اپنے عمل کا نقطہ آغاز ہی نہ پائے گا ۔ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ جو آدمی اپنے سفر کا نقطہ آغاز پالے وہ کبھی نہ کبھی اپنی منزل تک پہنچ جائے گا ، اور جو آدمی اپنے سفر کا نقطہ آغاز نہ پائے وہ کبھی اپنی منزل تک نہ پہنچے گا خواہ وہ ساری عمر بے فائدہ دوڑ ودھوپ کرتا رہے ۔ زندگی کے اسی اصول کا نام دینی اصطلاح میں قناعت ہے اور قناعت بلاشبہ ہر قسم کی انفرادی اور اجتماعی کامیابیوں کا واحد راز ہے ۔ ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں معمولی لفظی فرق کے ساتھ آئی ہے ۔ مثلا صحیح مسلم، کتاب الزکاة ۔ الترمذی ، کتاب الزهد - مسند احمد بن حنبل ، وغیرہ ۔ مسند احمد کے الفاظ یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page