قدرتی ڈھال
Urdu book, p. 124
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں : ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال قد أفلح من أسلم ورزق كفافاً و قنعه الله بما أتاه (مسند أحمد ۲ / ۱۶۸) یعنی اس شخص نے فلاح پائی جس نے اسلام قبول کیا اور اس کو بقدر ضرورت رزق ملا اور اللہ نے اس کو اس پر قناعت دی جو اس کو اس نے دیا۔ اس حدیث کو عام طور پر انفرادی معنوں میں اور معاشی مفہوم میں لیا جاتا ہے۔ مگر وہ اس سے بہت زیادہ وسیع ہے۔ اس حدیث کا پورا مطلب یہ ہے کہ افراد یا قوموں کو موجودہ زمانہ میں جو کچھ ملے یا حالات کے اعتبار سے جو ان کے لئے ممکن ہو اس کو وہ خوش دلی کے ساتھ قبول کر لیں، اس پر راضی رہتے ہوئے وہ اپنا عمل شروع کردیں۔ اس کا پہلا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ ملے ہوئے گو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ممکن ہے کہ جو کچھ ان کو حال میں حاصل نہیں ، وہ ان کی منصوبہ بند جد وجہد کے نتیجہ میں مستقبل میں حاصل ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader