علم کی اہمیت
Urdu book, p. 138
By Maulana Wahiduddin Khan
علم کی اہمیت قدیم زرعی دور میں علم کی اہمیت زیادہ تر فلسفہ اور مذہب کے مباحث میں ہوتی تھی۔ موجودہ سائنسی دور میں ہر چیز کا تعلق علم سے ہو گیا ہے۔ آج علم کے بغیر کسی بھی قسم کی ترقی ممکن نہیں ہے، نہ زرعی میدان میں اور نہ صنعتی میدان میں، نہ کسی اور میدان میں۔ موجودہ زمانے میں کوئی شخص پچھڑا ہوا دکھائی دے تو اس کے پچھڑے پن کا سبب علم سے محرومی ہوگی۔ اسی طرح اگر کوئی شخص ترقی کرتا ہوا دکھائی دے تو اُس کا سبب بھی یہ ہوگا کہ اُس شخص نے علمی قابلیت حاصل کی۔ قدیم زمانے میں ترقی کے لیے صرف محنت کافی ہوتی تھی مگر موجودہ زمانے میں محنت کے ساتھ پلاننگ ضروری ہو گئی ہے۔ آج کمیونیکیشن نے پوری دنیا کو ایک دوسرے سے قریب کر دیا ہے۔ ایسی حالت میں بڑی ترقی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی کو عالمی واقفیت حاصل ہو۔ اسی طرح آج ایک سوئی یا ایک قلم بنانا ہو تب بھی اس کے لیے جدید ٹیکنالوجی ضروری ہوتی ہے۔ پچھلے زمانے میں ایک کاغذی تحریر کی مزید نقل درکار ہو تو اس کو ہاتھ سے لکھا جاتا تھا، مگر آج مزید نقل کا تعلق بھی ٹیکنالوجی سے ہو گیا ہے۔ زمانے کی یہ تبدیلی بتاتی ہے کہ آج جو شخص ترقی کرنا چاہتا ہو اس کو سب سے پہلے علم حاصل کرنا پڑے گا اور نہ وہ دنیا کے بازار میں بے قیمت ہو کر رہ جائے گا۔ علم کے ذریعہ آدمی اس قابل بنتا ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کے خیالات سے مستفید ہو سکے۔ علم کے ذریعے آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہوتی ہے کہ وہ دنیا بھر کی معلومات حاصل کر سکے۔ علم کے ذریعہ آدمی کے اندر یہ مہارت پیدا ہوتی ہے کہ وہ جدید دفتری نظام کو سمجھے اور اس کو کامیابی کے ساتھ چلا سکے علم کے ذریعہ آدمی اس قابل بنتا ہے کہ وہ جدید امکانات کو جانے اور ان کو اپنے حق میں استعمال کر سکے۔ موجودہ زمانے میں علم کے ساتھ ترقی اسی طرح ہو گئی ہے جس طرح قدیم زمانہ میں معیشت زمین کے ساتھ جُڑی ہوئی تھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader