رہنماے حیات
Urdu book, p. 139
By Maulana Wahiduddin Khan
دانشمند کون ایک برطانوی مصنف دیم رالف انگ (William Ralph Inge) کا قول ہے کہ۔ دانش مند وہ ہے جو چیزوں کی اضافی قدر کو جانے: The-wise man is he who knows the relative value of things. اس قول کا مطلب کیا ہے اس کو مثال سے سمجھیئے ۔ ایک طالب علم کو امتحان دینا ہے۔ وہ وقت کے مطابق اپنے گھر سے اسکول کے لئے روانہ ہوتا ہے۔ راستہ میں ایک جاہل لڑکا اس سے الجھ جاتا ہے اور اس کو گالی دیتا ہے جس کے نتیجہ میں طالب علم کو غصہ آجاتا ہے۔ اب طالب علم اگر غصہ ہو جائے اور مذکورہ لڑکے سے انتقام لینے کے لئے اس سے الجھ جائے تو عین ممکن ہے کہ اس جھگڑے میں اتنی زیادہ دیر ہو جائے کہ وہ وقت پر امتحان ہال تک نہ پہنچے اور نتیجہ اس کا ایک سال ضائع ہو جائے۔ اسی طرح ایک شخص کو ضروری سفر کرنا ہے۔ وہ گھر سے روانہ ہوتا ہے تا کہ ریلوے اسٹیشن پہنچے اور ٹرین پر سوار ہو کر وقت پر اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائے۔ لیکن جب وہ گھر سے نکلا تو راستہ میں ایک شخص سے اس کا جھگڑا ہو گیا۔ اب اگر وہ دیر تک اس آدمی سے جھگڑتا رہے تو عین ممکن ہے کہ اس کو اتنی زیادہ دیر ہو جائے کہ جب وہ ریلوے اسٹیشن پہنچے تو اس کو معلوم ہو کہ اس کی ٹرین چلی گئی۔ ان مثالوں پر غور کیجئے ۔ مذکورہ دونوں شخصوں کا ایک مسئلہ وہ تھا جو خود مقام واقعہ پر موجود تھا۔ یعنی ایک شخص کا انھیں گالی دینا یا زیادتی کرنا۔ یہ معاملہ کا وہ پہلو تھا جو براہ راست عین موقع کے وقت دکھائی دے رہا تھا۔ اسی کے ساتھ وہاں ایک چھپا ہوا پہلو بھی تھا جو بظاہر مقام واقعہ پر موجود نہ تھا مگر ایک صاحب بصیرت آدمی غور کر کے اسے جان سکتا تھا۔ وہ یہ کہ اگر ان جاہلوں سے ٹکراؤ کیا جائے اور ان کو سزا دینے کی کوشش کی جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک اور انتہائی اہم مصلحت تباہ ہو جائے گی۔ یعنی وقت پر امتحان ہال یا ریلوے اسٹیشن نہ پہنچنا اور محض ایک وقتی نوعیت کی جذباتی تسکین کی خاطر زیادہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader