اول دن
Urdu book, p. 142
By Maulana Wahiduddin Khan
اول دن زکام شروع ہونے سے پہلے اس کی کچھ علامتی ظاہر ہوتی ہیں مثلاً چھینک آنا۔ زکام کی ابتدائی علامت ظاہر ہوتے ہی اگر فوری طور پر دوالی جائے تو پہلی ہی خوراک میں زکام کنٹرول میں آجائے گا لیکن اگر دیر کی جائے تو لمبی مدت تک زکام آپ کو پریشان کرتا رہے گا۔ یہی دوسری بیماریوں کا معاملہ ہے۔ زندگی کے مسائل و معاملات کی نوعیت بھی یہی ہے۔ اس بات کو فارسی زبان کی ایک مثل میں اس طرح کہا گیا ہے: مگر به کشتن روز اول (بلی کو پہلے ہی دن ہلاک کرو) اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی شخص سے تمہاری نزاع ہو یا اس سے دشمنی ہو جائے تو ابتداء ہی میں اس کو ختم کرنے کی کوشش کرو۔ حتی کہ فریق ثانی کی شرطوں پر اگر معاملہ ختم ہوتا ہو تب بھی اس میں دیر نہیں کرنا چاہئے۔ اس طرح کے معاملات میں دیر کرنے کا نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ معاملہ کی پیچیدگی بڑھتی چلی جائے۔ نزاعی مسئلہ ابتدائی مرحلہ میں تھوڑی قیمت پر حل ہو جاتا ہے۔ جب کہ بعد کو بھاری قیمت دے کر اسے حل کرنا پڑتا ہے۔ اس اصول پر عمل نہ کرنے کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے کہ نزاع پیش آنے کے بعد صاحب معاملہ معتدل ذہنی حالت میں نہیں رہتا۔ اس لئے وہ بے لاگ فیصلہ کرنے میں عاجز ثابت ہوتا ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ معاملہ پیش آنے کے بعد لوگوں سے مشورہ کیا جائے اور جو مشورہ ملے اس پر کھلے ذہن کے ساتھ غور کیا جائے۔ مشورہ کے ذریعہ وہ درست رائے معلوم ہو جاتی ہے جس کو صاحب معاملہ اپنے متاثرہ ذہن کی بنا پر دریافت نہیں کر سکتا تھا۔ نزاع کا جاری رہنا کسی بھی فریق کے لئے مفید نہیں۔ اگر فریق ثانی ضد کا طریقہ اختیار کرے تب بھی ایک فریق کو یک طرفہ طور پر اسے ختم کر دینا چاہئے۔ جو فریق نزاع کے خاتمہ کی پہل کرے گا آخر کار وہ کامیاب ہوگا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader