تجریدی اسلوب، شاعرانہ اسلوب
Urdu book, p. 141
By Maulana Wahiduddin Khan
تجزیاتی اسلوب، شاعرانہ اسلوب تجزیاتی اسلوب کیا ہے اور تخیلاتی اسلوب کیا ہے، اس کو ایک مثال سے سمجھیے۔ ایک شاعر گلاب کے درخت کو دیکھتا ہے۔ اس کی شاخ میں لطیف پھول کے ساتھ کانٹے بھی لگے ہوئے ہیں۔ یہ دیکھ کر شاعر کے ذہن میں ایک خیالی مضمون آتا ہے۔ وہ اس مضمون کو ایک شعر کے روپ میں اس طرح ڈھال دیتا ہے: حفاظت پھول کی ممکن نہیں ہے اگر کانٹوں میں ہو خوئے حریری اس شعر میں جو بات کہی گئی ہے وہ محض خیال آرائی ہے۔ اس لئے کہ گلاب کے کانٹوں نے کبھی بھی ایسا نہیں کیا کہ وہ دفاعی فوج بن کر پھول کی حفاظت کریں۔ جب بھی کوئی شخص پھول توڑنا چاہتا ہے تو وہ نہایت آسانی سے پھول کو توڑ لیتا ہے اور شاخ میں لگے ہوئے کانٹے بدستور غیر متحرک حالت میں پڑے رہتے ہیں۔ البتہ پھول کا حسن خود اپنی ذات میں پھول کی حفاظت ہے۔ جب بھی کوئی شریر بچہ یا کوئی بے حس آدمی پھول کو توڑنا چاہتا ہے تو تمام با ذوق افراد پھول کی حمایت میں بولنے لگتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پھول کو توڑ کر اس کو برباد نہ کرو بلکہ اس کے حسن سے تم خود بھی محفوظ ہو اور دوسروں کو بھی اس سے محفوظ ہونے کا موقع دو۔ ہر پھول جو اپنی شاخ میں کھل کر اپنی بہار دکھاتا ہے وہ خود اپنے حسن کی بدولت زمین کی زینت بنتا ہے نہ کہ کانٹوں کی حفاظت کی بدولت۔ گلاب کے پھول کے واقعہ کو اگر آپ تجزیاتی نظر سے دیکھیں تو آپ کو اس میں یہ سبق ملے گا کہ اس دنیا میں کوئی آدمی اگر اپنے اندر کوئی خوبی یا نفع بخشی پیدا کر لے تو اس کی یہ صفت اپنے آپ اس کی حفاظت کی ضمانت بن جائے گی۔ لیکن اسی واقعہ کو اگر تخیلاتی نظر سے دیکھا جائے تو دیکھنے والا نہ اس کی اصل حقیقت کو سمجھے گا اور نہ وہ اس سے کوئی نصیحت لینے میں کامیاب ہو سکے گا۔ تجزیاتی طریقہ آدمی کے شعور کو جگاتا ہے اور تخیلاتی طریقہ آدمی کو بے شعوری کے اندھیرے میں گم ہونے کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader