Urdu book · رہنماے حیات

بے بنیاد شکایت

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

ذہنی گمراہی میں ڈال کر انہیں اس کا انجام بھگتنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ اپنا ذاتی مسئلہ تو ہوشیاری کے ساتھ درست کر لیتے ہیں مگر وہ عوام کو بدستور بے شعوری کی حالت میں چھوڑ دیتے ہیں۔ تا کہ وہ اس کی بھاری قیمت ادا کرتے رہیں اور کبھی ترقی نہ کر سکیں۔ مسلمانوں کے لیے صحیح انداز غیر جانبدارانہ نصیحت کا انداز ہے۔ مگر اُن میں سے کوئی نصیحت کی بولی بولنے کے لیے تیار نہیں۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے حالات کو میں سے ۱۹۴ سے مسلسل دیکھتا رہا ہوں۔ میرا تجربہ ہے کہ مسلمان اپنے مسئلہ کا حل قرآن میں نہیں ڈھونڈتے، وہ دوسروں کی باتیں سن کر اپنی رائے بناتے ہیں۔ اسلام اُن کی زندگی کا صرف ایک رہی حصہ ہے۔ اسلام اُن کا قومی کلچر ہے، وہ اُن کا دین نہیں۔ موجودہ مسلمانوں کی اجتماعی سوچ، اُن کی ملی پالیسی قرآن سے ماخوذ نہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں کے بیانات، ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹیں، تعلیم یافتہ طبقہ کا اظہارِ خیال، یہی مسلمانوں کی ذہن سازی کے ذریعے ہیں۔ اُن کا مشترک طریقہ یہ ہے کہ وہ حالات کو قانون اور منطق کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ جب بھی انہوں نے جنگ کی آگ بھڑکائی تو خدا نے اس آگ کو بجھا دیا (المائدہ ۶۴) اس اعتبار سے دیکھئے تو دوسروں کا طریقہ آگ بھڑکانے والوں کی مذمت کرنا ہے۔ جب کہ قرآن کے مطابق مسلمانوں کا طریقہ آگ بجھانے کا ہونا چاہئے، نہ کہ ایسا طریقہ اختیار کرنا جو آگ کو مزید بھڑکانے کا سبب بن جائے۔ اس طرح کے معاملات میں قرآن کا طریقہ اصلاحِ خویش کے اصول پر قائم ہے اور دوسروں کا طریقہ احتساب غیر کے اصول پر۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page