Urdu book · رہنماے حیات

غلط سوچ کا مسئلہ

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

غلط سوچ کا مسئلہ ماہنامہ الرسالہ کے ایک قاری لکھتے ہیں: آپ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ آدمی کے لئے جب کامیابی کا ایک موقع ختم ہو جائے تو اس کو مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ کیوں کہ اس کے بعد دوسرا موقع وہیں اس کے لئے موجود رہتا ہے جس سے وہ اپنی ترقی کا سفر دوبارہ شروع کر سکے۔ سوال یہ ہے کہ آدمی کس طرح جانے کہ یہاں اس کے لئے دوسرا موقع موجود ہے۔ (سہیل احمد، نئی دہلی) نئے موقع کو پہچاننے کی شرط صرف ایک ہے، وہ یہ کہ آدمی بند ذہن کے تحت نہ سوچے بلکہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے کے لئے تیار ہو۔ وہ دوسروں کو قصور وار ٹھہرانے کے مزاج سے اپنے آپ کو اوپر اٹھا لے۔ اس کی ایک مثال ہندوستان کے مسلمان ہیں۔ ۱۹۴۷ سے پہلے ہمارے لیڈر اور ہمارے اخبارات مسلمانوں کو یہ بتاتے تھے کہ ہندوستان میں ان کا مقابلہ ہندو اکثریت سے ہے۔ یہاں وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔ ۱۹۴۷ میں تقسیم کے بعد بھی یہی ذہن باقی رہا۔ تمام بولنے والے اور لکھنے والے لوگ مسلمانوں کو یہی منفی سبق دیتے رہے۔ کچھ لوگ اس حد تک گئے کہ انھوں نے کہنا شروع کیا کہ یہاں کا اکثریتی فرقہ ہندوستانی مسلمانوں کے حق میں اس ملک کو دوسرا اسپین بنانا چاہتا ہے۔ اس غوغا آرائی نے مسلمانوں کے ذہن کو اتنا زیادہ بگاڑا کہ وہ سمجھنے لگے کہ ہندوستان میں ان کے لئے کامیابی اور ترقی کے مواقع سرے سے موجود ہی نہیں۔ میں ۱۹۴۷ سے اس کے خلاف لکھتا اور بولتا رہا ہوں۔ آخر کار آزموی کے تقریباً ۴۰ سال بعد مسلمانوں کا ذہن بدلنا شروع ہوا۔ اب ان کی سمجھ میں آیا کہ ہندوستان میں ان کے لئے ہر قسم کے مواقع کھلے ہوئے ہیں۔ چنانچہ اب یہاں کے مسلمان ہر میدان میں مسلسل ترقی کر رہے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ اس دنیا کا نظام فطرت کے قوانین کے تحت چلتا ہے نہ کہ کسی متعصب فرقہ کے منصوبوں یا سازشوں کے تحت۔ کوئی فرقہ یا گروہ بالفرض چاہے بھی تو فطرت اس کے راستہ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page