Urdu book · رہنماے حیات

غلط سوچ کا مسئلہ

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

بے قیمت الفاظ آپ بینک کے ذریعہ کسی شخص کو کچھ رقم ادا کرنا چاہتے ہیں تو اس کو آپ اتنی ہی رقم کا ایک چک دیتے ہیں۔ یہ چک صرف اس وقت کار آمد ہے جب کہ بینک کے یہاں آپ کے کھاتہ میں اتنی مقدار میں رقم موجود ہو جتنی آپ نے چک کے کاغذ پر لکھی ہے۔ اگر بینک کے یہاں آپ کے کھاتہ میں ضروری رقم نہ ہو اور آپ کسی کو چک لکھ کر دے دیں تو ایسے چک کی کوئی قیمت نہیں۔ کیوں کہ اس چک کی بنیاد پر بینک رقم کی ادائیگی نہیں کرے گا۔ آپ کا اس قسم کا چک صرف ایک بے قیمت کاغذی پرندہ ہے نہ کہ فی الواقع بینک چک۔ ایسے چک کو بینک کی اصطلاح میں بے کار چک (Dud cheque) کہا جاتا ہے۔ جب آپ کسی سے ایسے الفاظ بولتے ہیں جن کی بنیاد پر وہ آپ کے بارے میں کوئی امید قائم کرے تو گویا آپ اس کو اپنا ایک چک دیتے ہیں۔ ایسے چک کی قیمت اسی وقت ہے جب کہ آپ کے الفاظ کو وہ عمل کے وقت کیش کرا سکے۔ اگر ایسا ہو کہ عمل کا وقت آنے پر آپ اپنے قول کے تقاضے پورے نہ کریں تو گویا کہ آپ نے اپنے بھائی کو ایک بے کار چک دے دیا۔ آپ اس سے ایسے الفاظ بولے جن کے پیچھے آپ کے اخلاقی کھاتے میں عمل کی ضروری مقدار موجود نہ سکتی۔ کسی قوم پر جب زوال کا وقت آ جائے تو اس کا ہر فرد اسی قسم کے بے کار چک تقسیم کرنے کا بادشاہ بن جاتا ہے۔ اب ہر شخص ایسے الفاظ بولنے لگتا ہے جس کے بارہ میں وہ سنجیدہ نہیں ہوتا۔ جس کے متعلق اس کے اندر یہ مضبوط ارادہ موجود نہیں ہوتا کہ وہ ان الفاظ کو عمل کی صورت میں پورا کرے گا۔ اس قسم کی لفظی نقاصنی قرآن کی اس آیت کی مصداق ہے کہ وہ اپنی زبان سے ایسی باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں (آل عمران (۱۹۷) یعنی ایسے لوگ بظاہر بڑے بڑے الفاظ بولتے ہیں مگر وہ اپنے بول میں سنجیدہ نہیں ہوتے۔ ان کے اندر یہ پختہ ارادہ نہیں ہوتا کہ انھیں اپنے ان الفاظ کو عملاً پورا کرنا ہے۔ وہ صرف کہنے کے لیے کہہ دیتے ہیں، وہ کرنے کے لیے نہیں کہتے۔ اس روش کو قرآن میں منافقین کا طریقہ بتایا گیا ہے اور منافقین کے بارے میں قرآن میں اعلان کیا گیا ہے کہ وہ آگ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے ( النساء (۱۴۵)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page