فلسفه صحبت
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
فلسفۂ صحبت ”ایک بڑا سائنسداں جو چیز اپنے شاگرد کو دیتا ہے، وہ ایک ذہنی رحجان (attitude of mind) ہے۔“ ایک مبصر نے یہ بات نوبل انعام پانے والوں کی ایک جماعت کا جائزہ لینے کے بعد لکھی ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ کسی سائنسداں کو نوبل انعام پانے کے قابل بنانے والی چیز یہ نہیں ہے کہ اس کو کہیں سے سائنسی معلومات کا بڑا ذخیرہ حاصل ہو گیا تھا۔ وہ چیز جس نے اس کو اس عالمی اعزاز کا مستحق بنایا، وہ صرف اخذ ومطالعہ کا ایک ذہنی رجحان تھا جو کسی بڑے سائنسداں کی صحبت سے اسے ملا تھا۔ اسی چیز نے بالآخر اس کو ترقی کے اعلی مقام تک پہنچایا۔ صوفیاء کے یہاں جس چیز کو صحبت کہا جاتا ہے اس کی اصل بھی یہی ہے۔ یہ صحبت کوئی پر اسرار چیز نہیں۔ یہ ایک سادہ فطری حقیقت ہے۔ اپنی اصل کے اعتبار سے وہ مذہبی شخصیت کے یہاں بھی پائی جاتی ہے اور غیر مذہبی شخصیت کے یہاں بھی۔ ایک شخص جس نے لمبی جد و جہد کے بعد علم اور تجربہ میں اپنا حصہ پایا ہو اس کی ہر بات گہرے معانی لئے ہوئے ہوتی ہے۔ وہ جب بولتا ہے تو وہ علوم کے سرے کو بتاتا ہے۔ وہ جب تبصرہ کرتا ہے تو اس کا تبصرہ ایک بڑے ذخیرۂ کتب کا خلاصہ ہوتا ہے۔ وہ جب اپنے تجربات بیان کرتا ہے تو وہ برسوں کے درمیان پھیلے ہوئے سفر کو چند منٹوں میں سمیٹ رہاہوتا ہے۔ وہ جب مشورہ دیتا ہے تو اس کے مشورہ کے پیچھے نشیب و فراز اور کامیابی و ناکامی کی طویل کہانی چھپی ہوئی ہوتی ہے جس سے وہ گزر چکا ہے۔ اس کا ہر لفظ ایک کتاب ہوتا ہے، اس کی ہر تقریرایک پورے کتب خانہ کا خلاصہ ہوتی ہے۔ اس کا بولنا پوری تاریخ کا بولنا ہوتا ہے اور اس کا سوچنا پورے عالم بشری کا سوچنا۔ یہی فلسفہ صحبت کا خلاصہ ہے۔ زیر صحبت آدمی اس حیثیت میں ہوتا ہے کہ صاحب صحبت نے جو چیز ایک عمر صرف کر کے حاصل کی ہے، اس کو وہ چند لمحات صرف کر کے حاصل کرلے۔ زیر صحبت آدمی صاحب صحبت سے صرف علم حاصل نہیں کرتا، اسی کے ساتھ، وہ ایک زاویہ نظر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader