فلسفه صحبت
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
بھی حاصل کرتا ہے۔ وہ صرف معلومات نہیں لیتا بلکہ وہ اسی سے تڑپ بھی پاتا ہے۔ اس کو صرف یہ فائدہ نہیں ہوتا کہ وہ کتابوں اور مصنفوں کے نام سن کر اپنی فہرست مکمل کر لے بلکہ اس کی صحبت اس کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ علم کی ہواؤں میں سانس لے اور معرفت کے سمندروں میں نہائے۔ تاہم یہ فائدہ صرف حقیقی طالب کے لئے ہے نہ کہ محض ظاہری طور پر صحبت میں بیٹھنے والے کے لیے۔ قرآن میں اہل ایمان کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے ”یاایھا الذین آمنوا اتقوا اللہ و کونوا مع الصادقین (التوبہ ۱۱۹) یعنی اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو۔ یہ سچے لوگ یا صادقین کون ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے قول وفعل میں تضاد نہ ہو۔ جن کا ظاہر و باطن یکساں ہو۔ (استوت ظواهرهم وبواطنهم) الجامع لاحکام القرآن للقرطبی - ۸/ ۲۸۹ اس قسم کے صادقین کی صحبت میں بیٹھنا ہمیشہ مفید ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کا ہر بیان مبنی بر حقیقت ہوتا ہے۔ وہ وہی کہتے ہیں جو انہیں کہنا چاہئے، وہ وہی بولتے ہیں جو انہیں بولنا چاہئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے پاس بیٹھنے والوں کے اندر سچائی کا مزاج پرورش پاتا ہے۔ وہ بے بنیاد باتوں میں جینے کے بجائے حقائق میں جینے والے بن جاتے ہیں۔ ان کے اندر اعلیٰ انسانی اوصاف ابھرتے ہیں۔ ان کی نیتوں میں پاکی اور ان کے قول میں سنجیدگی آ جاتی ہے۔ ایسے لوگ بے حد نادر الوجود ہیں جو صحبت سے یا اپنے ماحول سے اثر نہ لیں۔ بیشتر لوگوں کا حال یہی ہے کہ وہ دوسروں سے اثر لیتے ہیں۔ وہ ویسے ہی بن جاتے ہیں جیسا کہ ان کے گردوپیش کا ماحول ہو۔ اس لئے آدمی کو صحبت کے معاملہ میں بے حد محتاط رہنا چاہئے۔ قرآن کے مطابق قابل صحبت آدمی وہ ہے جس کے ظاہر اور باطن میں فرق نہ پایا جاتا ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader