کام کی عظمت
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
کام کی عظمت حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ سے پوچھا گیا کہ سب سے اچھی کمائی کون سی ہے۔ آپ نے جواب دیا کہ آدمی کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا (سنن النبی صلى الله عليه وسلم عن افضل الكسب فقال ...... وعمل الرجل بيده) مسند الامام احمد، الجزء الثالث، صفحه ۴۶۶ - اس حدیث میں کام کی عظمت (dignity of work) کو بتایا گیا ہے۔ اسلام میں اس بات کی بے حد اہمیت ہے کہ آدمی خود کام کرے اور ہمیشہ اپنے آپ کو کام میں مشغول رکھے۔ یہ اسلامی مزاج کے سراسر خلاف ہے کہ کسی کام کو چھوٹا کام سمجھا جائے یا کسی کام کے کرنے میں شرم محسوس کی جائے۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام پیغمبر اپنا کام اپنے ہاتھ سے کرتے تھے ۔ حضرت داؤد اگرچہ بادشاہ تھے مگر وہ بھی اپنا کام خود اپنے ہاتھ سے کرنا پسند کرتے تھے۔ کوئی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا۔ ہر کام کام ہے، اور اس قابل ہے کہ اس کو کیا جائے۔ جب ایک آدمی کوئی کام کرتا ہے تو وہ صرف کام نہیں کرتا بلکہ وہ اپنے آپ کو بے کاری سے بچاتا ہے۔ وہ اپنے بارے میں اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ میرے اندر یہ عظیم انسانی اسپرٹ زندہ ہے کہ میں جس کسی کام کو دیکھوں تو فوراً خود اس کو انجام دوں۔ جب کوئی کام سامنے آجاۓ تو میرے اندر یہ اسپرٹ جاگ اٹھے کہ میں اس کام کو انجام دوں گا: I will do it. ایک آدمی جب کوئی کام کرتا ہے تو اس وقت وہ اپنی شخصیت کو بتا رہا ہوتا ہے۔ کام کرنا کام کرنے والے کی شخصیت کا تعارف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ فرض شناس (duty conscious) آدمی ہے۔ اس کے اندر سنجیدگی ہے۔ اس کے اندر ذمہ داری کا احساس ہے۔ اس کے اندر کر ڈالنے کا جذبہ ہے۔ وہ سست اور کاہل آدمی نہیں۔ وہ اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو لے کر بے کار پڑا رہے۔ اس کی لذت کام میں ہے نہ کہ بے کار رہ کروقت گزارنے میں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader