Urdu book · رہنماے حیات

غلط فہمی

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

غلط فہمی یہ ۱۳ مارچ ۲۰۰۲ کا واقعہ ہے۔ نئی دہلی کے کیٹ آفس (CAT office) میں ڈاکٹر شمس الآفاق خاں اپنے کام سے گئے ہوئے تھے۔ وہاں حسب معمول دوسرے بہت سے لوگ تھے۔ ایک آدمی ان کے سامنے تھا۔ ڈاکٹر صاحب آگے جانا چاہتے تھے۔ انہوں نے اس آدمی کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر اشارہ کیا کہ مجھے راستہ دے دو۔ آفس میں اپنے کام سے فارغ ہو کر جب وہ نکلے تو گیٹ کے باہر دو آدمی کھڑے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک وہی شخص تھا جس کی پیٹھ پر ڈاکٹر صاحب نے ہاتھ رکھا تھا۔ اور دوسرا اس کا ساتھی تھا۔ دونوں صورت سے جاٹ معلوم ہوتے تھے۔ مذکورہ آدمی نے جیسے ہی ڈاکٹر صاحب کو دیکھا وہ اچانک بگڑ گیا۔ وہ نہایت اشتعال انگیز لہجہ میں ان کو برا بھلا کہنے لگا۔ حتیٰ کہ اس نے کہا کہ راجندر ، تم کیا سمجھتے ہو، میں تم کو گولی مار دوں گا۔ ڈاکٹر شمس الآفاق صاحب اعراض کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے اب تک بالکل خاموش تھے۔ جب اس آدمی نے راجندر کا نام لیا تو انہوں نے فوراً محسوس کیا کہ یہ غلط فہمی کا معاملہ ہے۔ ابھی وہ چپ ہی تھے کہ ان کے ساتھی مسٹر اشوک کمار نے کہا کہ بھائی، تم کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ یہ تو ڈاکٹر شمس الآفاق ہیں۔ اور یہ فلاں سرکاری محکمہ میں افسر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ اس آدمی کو یقین نہیں آیا۔ شاید اس کے مفروضہ راجندر کی صورت ڈاکٹر صاحب سے کچھ ملتی جلتی تھی۔ اس کی طلب پر ڈاکٹر صاحب نے اپنی جیب سے اپنا آئیڈنٹٹی کارڈ نکالا اور اس آدمی کو دکھایا۔ آئیڈنٹٹی کارڈ کو دیکھتے ہی وہ ایسا ہو گیا جیسے پھولے ہوئے غبارہ کی ہوا اچانک نکل گئی ہو۔ اور پھر وہ سر جھکا کر خاموشی کے ساتھ چلا گیا۔ اس واقعہ میں بہت بڑا سبق ہے۔ اگر کوئی شخص آپ کے خلاف برا برتاؤ کرے تو فورا اس کو اپنا دشمن نہ سمجھ لیجئے۔ عین ممکن ہے کہ اس کے برے برتاؤ کا سبب اس کی غلط فہمی ہو۔ اگر آپ صبر و اعراض کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے اس سے نرمی کا معاملہ کریں تو عین ممکن ہے کہ آپ کی صحیح تصویر کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page