Urdu book · رہنماے حیات

غلط فہمی

Urdu book, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

جاننے کے بعد اس کا رویہ بالکل بدل جائے۔ گولی مارنے کی بات کرنے والا آدمی آپ کو پھول کی پیش کش کرنے لگے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ بے صبری کا انداز آدمی کے نفسِ امارہ کو جگاتا ہے۔ اس کے برعکس صبر کا انداز اس کے نفسِ لوّامہ کو جگا دیتا ہے۔ نفسِ امارہ کا جاگنا آدمی کو آپ کا دشمن بنا دیتا ہے۔ اور نفسِ لوّامہ کا جاگنا آدمی کو آپ کا دوست بنا دیتا ہے۔ انسانی زندگی میں غلط نہی پیدا ہونا ایک عام بات ہے۔ کسی بھی شخص کو کسی بھی شخص کے خلاف غلط نہی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس لئے غلط نہی پیدا ہونا بذات خود کوئی جرم نہیں۔ جرم یہ ہے کہ غلط نہی پیدا ہونے کے بعد وہ درست رویہ اختیار نہ کرے۔ اگر کسی شخص کو کسی کے خلاف غلط نہی پیدا ہو جائے تو صرف غلط نہی کی بنیاد پر اسے مان نہیں لینا چاہئے۔ اس پر لازم ہے کہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ معاملہ کی تحقیق کرے۔ تحقیق کے بعد اگر وہ بات غلط ثابت ہو تو اس پر فرض ہے کہ وہ اس کو مکمل طور پر اپنے دل سے نکال دے۔ غلط نہی کی تحقیق سے پہلے اس کا چرچا کرنا سخت گناہ ہے۔ ایک آدمی کسی کے بارے میں تحقیق کے بغیر بھلی بات تو کہہ سکتا ہے مگر تحقیق کے بغیر بری بات کہنا سرتا سر حرام ہے۔ ایسی روش پر اللہ کے یہاں سخت پکڑ کا اندیشہ ہے۔ خدا کا پسندیدہ معاشرہ وہ ہے جس میں لوگوں کے باہمی تعلقات حسن ظن کی بنیاد پر قائم ہوں۔ کسی کے بارے میں کوئی بری بات معلوم ہو تو تحقیق کے بغیر ہی اس کو رد کر دیا جائے۔ اس قسم کی باتیں براہ راست طور پر آخرت سے تعلق رکھتی ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ جو آدمی لوگوں کے عیبوں کی پردہ پوشی کرے، خدا آخرت میں اس کے عیبوں کی پردہ پوشی کرے گا۔ دوسروں کے ساتھ بہتر سلوک کرنا ایک قسم کی عملی دعا ہے۔ ایسا آدمی گویا یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ خدایا، میں نے تیرے بندوں کے ساتھ بہتر معاملہ کیا، تو بھی میرے ساتھ بہتر معاملہ فرما، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page