Urdu book · رہنماے حیات

مسلسل کوشش

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلسل کوشش سید فرید الوحیدی (پیدائش ۱۹۳۰) مشہور مجاہد آزادی مولانا وحید احمد مدنی (وفات ۱۹۳۸) کے صاحبزادے ہیں۔ مولانا مرحوم برٹش دور میں ان علماء کے ساتھ تھے جن کو مالٹا میں نظر بند (۱۹۱۸-۲۰) کیا گیا تھا۔ جناب سید فرید الوحی دی صاحب نے ابتدائی تعلیم دار العلوم دیو بند میں حاصل کی۔ اس کے بعد انھوں نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے عربی میں ایم اے کیا۔ اس کے علاوہ بی بی بھی کیا۔ ان کے لئے یہ موقع تھا کہ وہ اپنی بی ایڈ کی ڈگری کو استعمال کر کے کسی اسکول یا کالج میں ملازمت حاصل کر لیں ۔ یہ ان کے لئے سہولت کی زندگی ہوتی ۔ مگر سہولت کو ترک کر کے انھوں نے محنت کا راستہ اختیار کیا۔ انھوں نے ملازمت کے بجائے تجارت کو اپنی جدوجہد کا میدان بنایا۔ اب وہ س حدیث رسول کی ایک زندہ تفسیر ہیں کہ : تسعة اعشار الرزق في التجارة (رزق کا ۹۰ فیصد حصہ تجارت میں ہے )۔ تاہم اپنے حالات کے اعتبار سے تجارت کو اختیار کرنا ان کے لئے آسان راستہ کو چھوڑ کر مشکل راستہ کو اختیار کرنا تھا۔ کیونکہ تجارت کے لئے سرمایہ درکار تھا۔ اور ان کے پاس سرمایہ موجود نہ تھا۔ مگر انھوں نے اپنے عمل سے اس مشہور مقولہ کی صداقت کو ثابت کر دیا کہ محنت ہر چیز کا بدل ہے۔ جب ان کی عمر تقریباً ۲۰ سال تھی، انھوں نے سرمہ سے اپنی تجارت کا آغاز کیا۔ اس وقت ان کے پاس کوئی رقم نہ تھی۔ انھوں نے کسی سے دس روپیہ بطور قرض حاصل کیا۔ اس کے بعد انھوں نے سرمہ کی ڈلیاں خریدیں۔ کسی سے عاریہ کھرل حاصل کیا۔ اور رات دن کی محنت سے ڈلیوں کو پیس کر سرمہ بنایا۔ پھر اس کو شیشیوں میں بھرا۔ انھوں نے اپنے سرمہ کا نام سرمہ نور رکھا۔ اس وقت کوئی دکان داران کے غیر مشہور سرمہ کو اپنی دکان پر رکھنے کے لئے تیار نہ ہو سکتا تھا۔ اس کا حل انھوں نے یہ نکالا کہ وہ ایک دن دیوبند ریلوے اسٹیشن پر ٹرین میں سوار ہو گئے اور مسافروں کے سامنے اپنے سرمہ کا تعارف کرانا شروع کیا۔ جب انھوں نے سرمہ کا تعارف کراتے ہوئے خوش آواز ی کے ساتھ یہ شعر پڑھا : لگا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page