مسلسل کوشش
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
لو پیاری آنکھوں میں یہ ڈنڈ وشاہ کا سرمہ تو تمام مسافران کی طرف متوجہ ہو گئے۔ اور پہلے ہی دن ان کے سرمہ کی تمام شیشیاں فروخت ہو گئیں ۔ سرمہ کے کاروبار میں زیادہ گنجائش نہ دیکھ کر انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ انہیں کوئی دوسرا کام کرنا چاہئے۔ اب انہوں نے دیوبند میں کتابوں کی ایک دکان کھولی۔ اس کا نام انہوں نے قومی کتاب گھر رکھا۔ یہاں وہ کتاب فروخت کرنے لگے۔ مگر کتابوں کا کام محنت کے باوجود زیادہ آگے نہ بڑھ سکا۔ انہیں نظر آیا کہ اس کام میں ان کے لئے موجودہ حالت میں زیادہ ترقی کے مواقع نہیں ہیں۔ پھر انہوں نے تصنیف و تالیف کا کام شروع کیا۔ انہوں نے سیرت رسول اور تاریخ اسلام پر کئی نصابی کتابیں لکھیں جو اتنی زیادہ مقبول ہوئیں کہ اب تک ان کے سیکڑوں ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے محسوس کیا کہ یہ کام بھی ان کے اقتصادی حوصلوں کی تسکین کے لئے کافی نہیں۔ چنانچہ ۱۹۶۱ میں وہ ہندوستان سے ایک عرب ملک میں چلے گئے۔ ابتداء میں وہاں انہوں نے مختلف ملازمتیں کیں۔ اس کے بعد انہوں نے ایک شہر میں ایک تجارتی کام کا آغاز کیا۔ یہ الدعایة والا علان (ایڈورٹائزنگ) کا کام تھا۔ انہوں نے اپنے اس کام میں پورا اہتمام کیا کہ گاہکوں کو جو سامان سپلائی کیا جائے وہ اعلیٰ معیار کا ہو۔ یہاں تک کہ اعلیٰ معیار ان کی کمپنی الوحیدی کی پہچان بن گیا۔ ان کی کمپنی الوحیدی کے نام سے مشہور ہے۔ اب اس کے دفاتر وہاں کے تین بڑے شہروں میں ہیں۔ ۲۰ سال کی مسلسل محنت کے بعد ان کا کام اتنا زیادہ بڑھ چکا ہے کہ اب ایڈورٹائزنگ بزنس میں عرب دنیا میں ان کی کمپنی کا درجہ تیسرے نمبر پر ہے۔ ایک شخص جس نے ۱۹۵۰ میں دس روپیہ بطور قرض حاصل کر کے اپنی چھوٹی سی تجارت شروع کی تھی، وہ ۲۰۰۰ء میں اس حیثیت کو پہنچ چکا ہے کہ اب اس کے تجارتی ادارے میں ساٹھ آدمی کام کر رہے ہیں ۔ ان کو وہ مہینہ ایک لاکھ ریال تنخواہ دیتا ہے۔ یہ رقم ہندوستانی سکہ کے اعتبار سے ۱۰ لاکھ روپیہ سے زیادہ ہوتی ہے۔ سید فرید الوحیدی صاحب کو کامیابی اس طرح نہیں ملی کہ ان کو اچانک چھپر پھاڑ کر کوئی خزانہ مل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader