مسلسل کوشش
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
گیا۔ بلکہ ان کی کامیابی تمام تر محنت اور مسلسل محنت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے نوجوانی کی عمر میں مولانا اسماعیل میرٹھی کی ریڈ ریں پڑھیں۔ ان سے وہ بہت متاثر ہوئے۔ مولانا اسماعیل میرٹھی کے یہ اشعار ان کی زندگی کے لئے رہنما ثابت ہوئے: جو پتھر پہ پانی پڑے متصل تو بے شبہ گھس جائے پتھر کی سل رہوگے اگر تم یونہی مستقل تو اک دن نتیجہ بھی جائے گا مل کئے جاؤ کوشش مرے دوستو سید فرید الوحیدی صاحب جب زندگی کی جدوجہد میں داخل ہوئے تو ابتدا تقربیاً بیس سال تک انہیں مختلف قسم کے معمولی کام کرنے پڑے۔ اس زمانہ میں وہ صبح سے شام تک اکیلے محنت کرتے تھے ۔ محنت کے ساتھ انہوں نے دیانت داری (honesty) کو اپنا لازمی اصول بنالیا۔ انہوں نے خود نقصان اٹھایا مگر کبھی کسی دوسرے کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی۔ میں سال کے بعد وہ وقت آیا جب کہ ان کا کام بڑھا اور انہوں نے مزید کارکن رکھ کر کمپنی کی صورت میں کام کرنا شروع کیا۔ انہوں نے شہر کی سڑکوں پر پیڈوں چل کر اپنے کام کا آغاز کیا تھا، اب وہ اس پوزیشن میں ہو چکے ہیں کہ جدید ترین کمیونی کیشن استعمال کر کے انٹرنیشنل بزنس کر سکیں۔ ۵ فروری ۲۰۰۰ کو دہلی میں سید فرید الوحیدی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے جو اقتصادی ترقی حاصل کی اس کا راز کیا تھا۔ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مختصر طور پر میری ترقی کا راز یہ تھا۔ سادہ زندگی اور بلند سوچ: Simple living, high thinking انہوں نے کہا کہ کسی بھی کامیابی کے لئے مسلسل جدوجہد لازمی شرط ہے اور سادہ زندگی اور بلند سوچ آپ کو اس قابل بناتی ہے کہ آپ اپنے مقصد کے لئے وہ مطلوب عمل کر سکیں جس کو مسلسل جدو جہد کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader