Urdu book · رہنماے حیات

حضرت لبیدؓ

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت لبید لبید بن ربیعہ بن مالک العامری (وفات ۴۱ھ) قدیم عرب کے ایک مشہور شاعر تھے۔ ان کا شمار اصحاب المعلقات میں سے ہوتا ہے۔ ہجرت کے بعد انہوں نے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد انہوں نے شاعری چھوڑ دی۔ کہا جاتا ہے کہ قبول اسلام کے بعد انہوں نے صرف ایک شعر کہا تھا جو یہ ہے: ماعاتب المرء الکریم کنفسه والمرء يصلحه الجليس الصالح عمر فاروقؓ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں ایک بار حضرت لبیدؓ سے کہا کہ اپنے کچھ اشعار سنائیے۔ حضرت لبید نے جواب دیا کہ اللہ نے مجھ کو بقرہ اور آل عمران جیسی سورتوں کی تعلیم دی تو اس کے بعد میرے لیے مناسب نہیں کہ میں شعر کہوں (ماكنت لأقول شعراً بعد أن علمني الله البقرة و آل عمران ) ابن عبدالبر، الاستیعاب۔ حضرت لبید نے اپنے شعر میں جو بات کہی ہے وہ یہ ہے کہ شریف آدمی احتساب غیر کے بجائے احتساب خویش کے معاملہ میں زیادہ حساس ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کی غلطی پر گرفت کرتے ہوئے نرمی کا انداز اختیار کر سکتا ہے مگر جب معاملہ خود اپنی غلطی کا ہو تو وہ اس کے لیے بے رحم محاسب بن جاتا ہے۔ شعر کے دوسرے مصرع میں انہوں نے صحبت کی اہمیت بتائی ہے۔ آدمی اگر زیادہ دیر تک برے شخص کی صحبت اختیار کرے تو اندیشہ ہے کہ وہ بھی برا بن جائے اور جب آدمی اچھے انسان کی صحبت اختیار کرتا ہے تو اس کی صحبت کے اثر سے وہ بھی ایک اچھا آدمی بن جاتا ہے۔ یہ بات بظاہر قرآن کے مقابلہ میں ہے مگر وسیع تر معنیٰ میں اس کا تعلق دوسری حقیقتوں سے بھی ہے۔ ابتدائی مفہوم کے اعتبار سے اس کا تعلق قرآن کے سامنے خاموشی اختیار کرنے سے ہے۔ اور وسیع تر انطباب کے لحاظ سے ہر حق کے سامنے اپنی زبان بند کر لینے سے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page