شریف، کمینہ
Urdu book, p. 54
By Maulana Wahiduddin Khan
شریف، کمینہ قال العتبی سمعت اعرابيا يقول: عتبی کا قول ہے کہ میں نے ایک اعرابی کو یہ کہتے ہوئے سنا اسوا ما فی الکریم ان یکف عنک کہ شریف آدمی کے لئے سب سے بری چیز یہ ہے کہ وہ اپنا خيره وخير ما فی اللئیم ان یکف خیر تم سے روک دے اور کمینہ آدمی کے لئے سب سے بہتر چیز عنک شره (الامالی للقالی) یہ ہے کہ وہ اپنے شر سے تم کو بچائے۔ شریف آدمی وہ ہے جو دوسروں کے لئے نفع بخش ہو۔ جو بولے تو انصاف اور خیر خواہی کی بات بولے۔ اس کے مال اور اس کے اثاثہ میں دوسروں کا حصہ ہو۔ وہ صرف اپنے لئے نہ جئے بلکہ یہ سمجھ کر زندگی گزارے کہ اس کے اوپر دوسروں کا بھی حق ہے۔ جو شخص شریف ہو یا لوگوں کی نظر میں شریف سمجھا جائے، اس کے لئے یہ بات اس کی شرافت کے خلاف ہوگی کہ اس سے لوگوں کو فائدہ پہنچنا بند ہو جائے۔ یہ بات اس کے لئے ازالہ حیثیت عرفی کے ہم معنی ہے کہ اس کا قول اور اس کا عمل دوسروں کے لئے اپنی افادیت کھودے۔ اس کے برعکس کمینہ آدمی وہ ہے جس کے اندر نفع بخشی کی صلاحیت نہ رہے۔ اس کی زبان لوگوں کی برائی میں کھلے۔ وہ بولے تو بے انصافی اور بد خواہی کی بات بولے۔ وہ صرف لینا جانتا ہو، اس کے یہاں دینے کا کوئی خانہ نہ ہو۔ وہ اپنی ذات کے لئے جی رہا ہو۔ دوسروں سے اس کو کوئی دلچسپی نہ ہو۔ ایسا آدمی دوسروں کے لئے سراپا شر ہوتا ہے۔ دوسروں کے ساتھ اس کا آخری احسان یہ ہے کہ وہ اپنی برائی سے لوگوں کو محفوظ رکھے۔ اس کی کثافت اس کی اپنی ذات تک محدود رہے۔ اس کی کثافت دوسروں تک نہ پہنچنے پائے۔ شریف آدمی خدا کے باغ کا پھول ہے اور کمینہ آدمی خدا کے باغ کا کانٹا۔ شریف آدمی سے لوگوں کو مہک ملتی ہے اور کمینہ آدمی سے صرف تلخی اور اذیت۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader