قدرتی ڈھال
Urdu book, p. 66
By Maulana Wahiduddin Khan
داخلی مسئلہ اخبار کی دوسری سرخی پڑھیے: "ملک میں فرقہ واریت کا بڑھتا ہوا ناسور"۔ "فرقہ وارانہ جماعتوں پر پابندی لگائی جائے"۔ ان سرخیوں کو پڑھنے والاظاہر یہ سمجھے گا کہ یہ ہندوستان کے بارے میں کوئی خبر ہے مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ پاکستان کے بارہ میں ہے۔ پہلی سرخی لاہور کے روزنامہ نوائے وقت (۱۹ اپریل ۱۹۹۲ء) کے صفحہ اول سے لی گئی ہے۔ اور دوسری سرخی نوائے وقت (۱۷ اگست ۱۹۹۲) کے صفحہ اول سے۔ پہلی سرخی کے تحت جو رپورٹ درج ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ تقسیم سے پہلے برصغیر ہند میں جب پاکستان کی تحریک چلی تو ہر فرقہ اور ہر مسلک کے لوگ آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔ برصغیر ہند کی پوری مسلم قوم ایک گلستان اخوت بنی ہوئی تھی جس میں مسلمانوں کے ہر طبقہ کے لوگ اکٹھا ہو کر مہکتے تھے۔ مگر اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آج پاکستان میں ملت اسلامیہ کا یہ اتحاد پارہ پارہ ہو چکا ہے۔ آج پاکستان کے چاروں طرف فرقہ وارانہ خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ پاکستانی جائزہ نگار نے لکھا ہے کہ جب" ہم سب ایک ہی گلستان کے پھول ہیں تو پھر یہ کانٹے کہاں سے آئے۔ اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو صاف پتہ چلتا ہے کہ امت اسلامیہ میں یہ کانٹے اغیار اور کفار نے پیدا کئے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کی راہوں میں قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑی کیں۔ انہوں نے مسلمانوں کے اتحاد و اشتراک کو پارہ پارہ کر دیا۔ پاکستانی لیڈروں نے "اغیار اور کفار" سے الگ ہونے ہی کے لئے پاکستان بنوایا تھا۔ پھر جب انھوں نے بے شمار قربانیوں کے بعد مسلمانوں کو اغیار اور کفار کے پڑوس سے علیحدہ کر کے پاکستان بنوالیا تو اس کے بعد وہ کون تھا جس نے گلستان اخوت کو خارزار اخوت بنادیا۔ گلستان کو خارستان بنانے کی ذمہ داری غیروں پر ڈالنا سراسر قرآنی تعلیم کے خلاف ہے۔ قرآن کے مطابق، ہر فرد اور ہر گروہ خود اپنے کئے کو بھگتتا ہے۔ اس لئے اس قسم کے مسئلہ کا حل خود اپنی داخلی اصلاح ہے نہ کہ مفروضہ دشمنوں کے خلاف احتجاج و فریاد۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader