Urdu book · رہنماے حیات

قدرتی ڈھال

Urdu book, p. 67

By Maulana Wahiduddin Khan

منزل کا نشانہ انگلینڈ اور فرانس کے درمیان ایک سمندری کھاڑی ہے۔ اس کو انگلش چینل کہا جاتا ہے۔ جس مقام پر اس کا پاٹ سب سے کم ہے وہاں وہ ۲۱ میل چوڑی ہے۔ اب اس کے نیچے ایک سرنگ بنائی گئی ہے جو انگلینڈ اور فرانس کے درمیان بذریعہ روڈ سفر کو ممکن بناتی ہے۔ تیراک لوگ ہمیشہ اس کے شوقین رہے ہیں کہ وہ تیر کر انگلش چینل کو پار کریں۔ سب سے پہلے ۱۸۷۵ میں ۲۷ سالہ میتھو ویب (Matthew Webb) نے تقریباً ۲۱ گھنٹہ تیرتے ہوئے اس کو پار کیا تھا۔ اس کے بعد سیکڑوں لوگ بار بار اس کو پار کر چکے ہیں۔ ہر ایک کے ساتھ مختلف قسم کی کہانیاں وابستہ ہیں۔ امریکی خاتون فلارنس شاڈوک (Florence Chadwick) پہلی خاتون ہیں جنھوں نے انگلش چینل کو تیر کر پار کرنے کی کوشش کی۔ پہلی بار وہ ناکام رہیں۔ اس کے بعد انہوں نے اس کو دونوں طرف سے پار کرنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ فرانس کی طرف سے ۱۹۵۰ میں ، اور انگلینڈ کی طرف سے ۱۹۵۱ میں۔ پہلی ناکامی کے بعد فلارنس شاڈوک نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں اپنی ناکامی کے لئے کوئی عذر پیش نہیں کروں گی۔ میرا خیال یہ ہے کہ اگر میں اپنی منزل کو بخوبی طور پر اپنے سامنے رکھ سکتی تو میں کامیاب ہو جاتی۔ منزل کا تصور آپ کو برابر آگے کے لئے متحرک رکھتا ہے: I'm not offering excuses, but I think I could have made it if I had been able to see my goal. Goal gives you a vision that keeps you pressing on. یہ صرف تیراک کی بات نہیں۔ یہی بات زندگی کے تمام معاملات کے لئے درست ہے۔ زندگی کا سفر ایک غیر ہموار سفر ہے۔ جب آدمی کے سامنے ایک واضح مقصد ہو تو وہ ساری ناخوش گواریوں کو انگیز کرتے ہوئے بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ اور جو آدمی واضح نشانہ سے محروم ہو وہ کسی بھی مقام پر تھک کر بیٹھ جائے گا، وہ زیادہ آگے تک نہیں جا سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page