Urdu book · رہنماے حیات

قدرتی ڈھال

Urdu book, p. 68

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ قیادت پانچویں صدی عیسوی میں یونان میں کچھ ایسے سیاسی لیڈر ابھرے جنہوں نے لوگوں کے وقتی اور سطحی جذبات کو بھڑکا کر عوامی مقبولیت حاصل کی۔ ایسے کسی لیڈر کو اس زمانہ میں ڈیما گاگ (Demagogue) کہا گیا۔ ان میں سے ایک مشہور نام کلیون (Cleon) کا ہے۔ وہ ایک بلند آواز آدمی تھا۔ اسی کے ساتھ اس کے اندر اس بات کی خصوصی صلاحیت تھی کہ وہ عوام پسند زبان میں کلام کر سکے۔ اس نے وقت کے نظام حکومت کے خلاف پرجوش تقریریں کر کے عوام کے اندر مقبولیت حاصل کر لی۔ (8/357) موجودہ زمانہ میں ڈیما گاگ کا لفظ اس سیاسی لیڈر کے لئے بولا جاتا ہے جو لوگوں کے جذبات اور تعصبات کو مخاطب کرے اور اس طرح ان کے درمیان لیڈری اور مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔ وہ عوامی خواہشات کا نمائندہ بن کر عوام کی بھیڑ اپنے گرد اکٹھا کر لے (111/454-55) وبسٹر کی ڈکشنری میں ڈیما گاگ کی تشریح اس طرح کی گئی ہے۔ ایک شخص جو عوام کے جذبات اور ان کے تعصبات وغیرہ کو بھڑکاۓ اور اس طرح ان کا لیڈر بن کر اپنے ذاتی مفادات کو پورا کرے: A person who tries to stir up the people by appeals to emotion, prejudice, etc., in order to become a leader and achieve selfish ends. قیادت کی دو قسمیں ہیں۔ ایک قائد وہ ہے جو عوام کے پیچھے چلے۔ جو عوامی جذبات کی ترجمانی کرے ۔ دوسرا قائد وہ ہے جو عوام کو خود اپنے پیچھے چلائے، جو اصولوں کی نمائندگی کرنے والا ہو۔ پہلے قسم کے قائد کو موجودہ زمانہ میں ڈیما گاگ کہا جاتا ہے۔ اس قسم کے قائد کو ہمیشہ زبردست مقبولیت حاصل ہوتی ہے۔ ایسا قائد عوام کو اپنا وکیل معلوم ہوتا ہے۔ اس لئے اس کے گرد بہت جلد عوام کی بھیڑ اکٹھا ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس معاملہ دوسری قسم کی قیادت کا ہے۔ ایسا قائد اپنے اعلیٰ ترین اوصاف کے باوجود عوام کے اندر اجنبی بن جاتا ہے۔ اس کے گرد لوگوں کی بھیڑ جمع نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہیں چلتا بلکہ وہ برتر اصولوں کا ترجمان ہوتا ہے۔ ایسے قائد کو اکثر یہ کام کرنا پڑتا ہے کہ وہ بولنے والوں کو چپ کرائے اور چلنے والوں کو روکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page