Urdu book · رہنماے حیات

قدرتی ڈھال

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

ہر ایک نے کہا کہ وہاں پہنچ کر ہمارے لئے دعا کیجئے گا۔ انہوں نے بتایا کہ شیوجنگ میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے تعلقات بہت اچھے ہیں۔ شرپسند افراد یہاں آتے ہیں مگر ان کی کوشش کامیاب نہیں ہوتی۔ مثلاً ایک کٹر ہندو لیڈر ۱۹۹۲ء میں آئے۔ انہوں نے رات کے جلسہ میں نہایت زہریلی تقریر کی۔ انہوں نے ہندوؤں سے یہاں تک کہا کہ مسلمانوں کا مکمل بائیکاٹ کرو اور ان سے لین دین نہ کرو اور کوئی دکان انہیں کرایہ پر نہ دو۔ اگر دیا ہو تو زبردستی خالی کرالو، وغیرہ۔ واضح ہو کہ شیوجنگ کی تجارت تقریباً ۹۹ فی صد ہندوؤں کے ہاتھ میں ہے۔ مشتاق صاحب نے یہ قصہ بتاتے ہوئے کہا کہ شیوجنگ میں مسلمان صرف پانچ فی صد ہیں۔ رات کی اس زہریلی تقریر کے بعد ہم لوگ یہ سوچنے لگے کہ دیکھیں صبح کو کیا ہوتا ہے۔ تاہم مسلمانوں نے اس کے خلاف کوئی احتجاج یا مظاہرہ نہیں کیا، نہ جلسہ کے اندر اور نہ جلسہ کے باہر۔ اس انتہائی دل آزار تقریر کے باوجود شیوجنگ کے مسلمانوں نے اس کے خلاف کوئی احتجاجی کارروائی نہیں کی۔ صرف یہ ہوا کہ جناب محمد امین صاحب جو شیوجنگ کے ایک مسلم تاجر ہیں وہ وہاں کے ایک ہندو پنڈت پکھراج شری مالی سے ملے۔ وہ وشو ہندو پریشد کے مقامی لیڈر ہیں۔ محمد امین صاحب نے ان سے پوچھا کہ رات کو جو تقریر مہاراج نے کی ہے اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔ کیا آپ اس کو ٹھیک سمجھتے ہیں۔ پنڈت پکھراج شری مالی صاحب نے جواب دیا کہ یہ سب بکواس ہے۔ شیوجنگ گنج میں ہندو اور مسلمان بھائی بھائی کی طرح رہتے آئے ہیں اسی طرح رہیں گے۔ یہاں اس کا کوئی اثر ہونے والا نہیں۔ چنانچہ خود یہاں کے ہندوؤں نے مذکورہ تقریر کی بھر پور بھر شنا (مذمت) کی اور شیوجنگ کے ماحول میں اس کا کوئی عملی اثر نہیں ہوا۔ اصل یہ ہے کہ انسان کی فطرت امن کو پسند کرتی ہے۔ ہر انسان پیدائشی طور پر معتدل ماحول چاہتا ہے کیوں کہ معتدل ماحول میں ہر ایک کا فائدہ ہے۔ جب شیوجنگ کے مسلمانوں نے اپنی طرف سے کوئی جوابی کارروائی نہیں کی تو گویا کہ انہوں نے انسانی فطرت کو اپنا عمل کرنے کا موقع دیا۔ اور انسانی فطرت اپنا وزن ہمیشہ امن کے حق میں ڈالتی ہے۔ اس کے خلاف صرف اس وقت ہوتا ہے جب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page