Urdu book · رہنماے حیات

قدرتی ڈھال

Urdu book, p. 80

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ کوئی نادان لیڈر کھڑا ہو اور جوابی اشتعال انگیزی کر کے معاملہ کو غیر ضروری طور پر اس طرح بڑھائے کہ فطرت کے لئے اپنا کام کرنے کا موقع باقی نہ رہے۔ فطرت کا ایک اصول زمین پر چھوٹے بڑے بے شمار حیوانات ہیں۔ وہ ہر لمحہ اپنے اندر سے گندگی نکالتے رہتے ہیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ زمین بدستور صاف ستھری حالت میں موجود رہتی ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ وہ حیوانی غلاظت سے بھر جائے۔ اس کا سبب فطرت کا ایک قانون ہے۔ جب بھی کوئی حیوان غلاظت خارج کرتا ہے تو عین اسی وقت بے شمار چھوٹے چھوٹے نا قابلِ مرئی کیڑے (bacteria) اس پر جمع ہو جاتے ہیں۔ وہ اس کو ڈکمپوز (decompose) کر کے گیس کی صورت میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد یہ گیس اوپر اٹھ کر فضا میں تحلیل ہو جاتی ہے۔ یہ فطرت کا ایک عام قانون ہے۔ وہ جس طرح بقیہ دنیا میں جاری ہے اسی طرح وہ انسانی دنیا میں بھی جاری ہے۔ جب بھی انسانی دنیا میں کوئی برائی پیدا ہوتی ہے تو عین اسی وقت قدرت کا قانون عمل میں آ جاتا ہے۔ وہ اس برائی کو ختم کر کے دوبارہ اس کو معتدل حالت میں قائم کرنے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ فطرت کا یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی آخری تکمیل تک پہنچ جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نا خوشگوار صورت حال پیش آنے کے بعد اگر ہم خود اقدام نہ کریں تو فطرت اپنے آپ اس کے خلاف سرگرم ہو جائے گی ۔ اور نا خوشگوار صورت حال کو دوبارہ خوش گوار صورت حال میں تبدیل کر دے گی۔ انسان کی مداخلت کا انجام یقینی نہیں مگر فطرت کی مداخلت کا انجام یقینی ہے، فطرت خدا کے قانون کا نام ہے۔ اور خدا کا قانون جب عمل میں آ جائے تو اس کو انجام تک پہنچنے سے کوئی روکنے والا نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page