Urdu book · رہنماے حیات

قدرتی ڈھال

Urdu book, p. 81

By Maulana Wahiduddin Khan

درد ناک انجام دمشق کی تاریخ کے ساتھ جن لوگوں کے نام شامل ہیں ان میں سے ایک ٹی ای لارنس (T.E.Lawrence) ہے۔ یہ ایک انگریز تھا جو ۱۸۸۸ میں پیدا ہوا۔ اس نے عرب علاقہ کی تاریخ پڑھی اور عربی زبان سیکھی۔ اس کے بعد عربی لباس پہن کر عربوں کے درمیان داخل ہو گیا۔ ۱۸۔ ۱۹۱۴ کے درمیان اس نے دمشق کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ اس وقت عرب ممالک بشمول شام پر ترکوں کی حکومت تھی۔ لارنس نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ عربوں میں ترکوں کے خلاف نفرت پیدا کر دی۔ یہاں تک کہ عربوں کے اندر عرب قومیت کا جذبہ اتنی شدت سے ابھرا کہ انھوں نے ترکوں کے خلاف بغاوت کر دی۔ لارنس کی یہ کہانی حسب ذیل کتاب میں دیکھی جا سکتی ہے : Lawrence of Arabia, by Richard Aldington کر نل لارنس بظاہر اپنے مقصد میں کامیاب رہا۔ مگر اس کا آخری انجام نہایت درد ناک تھا۔ انگریزی حکومت نے اس کو اس کے حوصلہ کے بقد ر ”انعام“ نہیں دیا۔ وہ مایوسی کے عالم میں ۲۶ فروری، ۱۹۳۵ء کو رائل ایئر فورس سے ریٹائر ہو گیا۔ اس کے بعد وہ اپنے آخری ایام گزارنے کے لئے کلاوڈ س ہل (Clouds Hill) چلا گیا۔ وہ ایک شکستہ دل انسان کی طرح یہاں اپنے صبح و شام گزار رہا تھا کہ ۱۳ مئی ۱۹۳۵ء کو موٹر سائیکل کے حادثہ میں شدید زخمی ہو گیا۔ اور چھ دن تک بے ہوش رہ کر مر گیا۔ A motorcycling accident on May 13, (1935) solved the problem of his future. He died six days later without regaining consciousness (10/727)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page