قدرتی ڈھال
Urdu book, p. 85
By Maulana Wahiduddin Khan
تقابل کا مسئلہ امریکا کے ایک سفر میں میری ملاقات کچھ ایسے مسلمانوں سے ہوئی جو ہندوستان سے جاکر امریکا میں آباد ہوگئے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ اپنے وطن کو چھوڑ کر یہاں کیوں چلے آئے ۔ ہر ایک کا جواب یہ تھا کہ امریکا میں ہمارے لئے پس (امن) ہے، اور ہندوستان میں ہمارے لئے پس نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ ادھوری بات ہے۔ پس کا تعلق کسی ملک سے نہیں۔ بلکہ پس کی ایک قیمت ہے، آپ جہاں بھی وہ قیمت ادا کریں، وہاں آپ کو پس مل جائے گا۔ یہ قیمت ایڈجسٹمنٹ ہے۔ پھر میں نے کہا کہ امریکا میں بھی مسلمانوں کے لئے وہ تمام مسائل موجود ہیں جو ہندوستان میں ہیں۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ہندوستان میں وہ ان مسائل کو لے کر بے برداشت ہوجاتے ہیں۔ اور امریکا میں ان مسائل کے اوپر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا میں ان کے لئے امن ہے اور ہندوستان میں ان کے لئے امن نہیں۔ میں نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے پرسنل لاء میں مداخلت کا مسئلہ ہے، ملازمتوں میں امتیاز کا مسئلہ ہے، درسی کتابوں میں غیر اسلامی مضامین کا مسئلہ ہے، مسجد کی بے حرمتی کا مسئلہ ہے، وغیرہ۔ یہ تمام مسائل امریکا میں بھی پوری طرح موجود ہیں۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ ہندوستان میں ان چیزوں کو لے کر احتجاجی سیاست چلاتے ہیں اور امریکا میں ان چیزوں کو نظر انداز کر کے رہتے ہیں۔ مسلمانوں کی روش میں اسی فرق نے بے امنی کا مسئلہ پیدا کیا ہے نہ کہ دو ملکوں کے فرق نے۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح اکثر لوگ غلط تقابل میں مبتلا رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بیشتر فکری غلطیاں غلط تقابل کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ صحیح تقابل سے صحیح فکر بنتا ہے اور غلط تقابل سے غلط فکر۔ اس دنیا میں صحیح رائے صرف وہ لوگ قائم کر سکتے ہیں جو اس فکری حکمت کو جانیں ۔ جو لوگ اس فکری حکمت سے محروم ہوں وہ صحیح رائے سے بھی محروم رہیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader