Urdu book · رہنمائے حیات

مقابلہ کی ہمت

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

مقابلہ کی ہمت جے آرڈی ٹاٹا (J.R.D. Tata) ہندوستان کے چند انتہائی بڑے صنعت کاروں میں سے ہیں۔ بوقت تحریر ان کی عمر ٨٨ سال کی ہے ۔ اب بھی وہ ہوائی جہاز چلاتے ہیں اور برف پر اسکیٹنگ (skiing) کرتے ہیں۔ اتنی بڑی عمر میں ان کی اس صحت کا راز کیا ہے ، اس کے جواب میں انھوں نے کہا : One of the things that keep me young is the fact that I am prepared to live dangerously. You must be prepared to take risks - risk in business, sport, marriage, everything, to make life worthwhile. (p. 4). جو چیزیں مجھ کو برابر جوان رکھتی ہیں ان میں سے ایک یہ حقیقت ہے کہ میں خطرات میں جینے کے لیے تیار رہتا ہوں ۔ زندگی کو کار آمد بنانے کی خاطر آپ کو رسک لینے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ بزنس کھیل، شادی، ہر چیز میں رسک (ہندوستان ٹائمز ۱۳ جولائی ۱۹۹۱) انگریزی کا مثل ہے کہ رسک نہیں تو کامیابی بھی نہیں (No risk no gain) یہاں سوال یہ ہے کہ رسک اور خطرات کیوں آدمی کو کامیابی اور ترقی کی طرف لے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسک آدمی کی قوتوں کو جگاتا ہے ، وہ ایک معمولی انسان کو غیر معمولی انسان بنا دیتا ہے ۔ آدمی اگر خطرات کا سامنا نہ کرے، وہ رسک کی صورتوں سے دور رہے تو وہ سست اور کاہل انسان بن جائے گا۔ اس کی فطری صلاحیتیں خوابیدگی کی حالت میں پڑی رہیں گی۔ وہ ایسا بیج ہوگا جو پتا نہیں کہ درخت بنے ، وہ ایسا ذخیرہ آب ہوگا جس میں موجیں نہیں اٹھیں جو طوفان کی صورت اختیار کرے ۔ مگر جب آدمی کو خطرات پیش آتے ہیں ، جب اس کی زندگی رسک کی حالت سے دوچار ہوتی ہے تو اس کی شخصیت کے اندر چھپی ہوئی فطری استعداد جاگ اٹھتی ہے ۔ حالات کا دباؤ اس کو مجبور کر دیتا ہے کہ وہ متحرک ہو جائے ، وہ اپنی ساری طاقت اپنے کام میں لگا دے ۔ ہر آدمی کے اندر اتھاہ صلاحیتیں ہیں ۔ مگر یہ صلاحیتیں ابتدائی طور پر سوئی ہوئی ہوتی ہیں۔ وہ کبھی جگائے بغیر نہیں جاگتیں ۔ ان صلاحیتوں کو جگانے کا ایک ہی طریقہ ہے ۔ وہ یہ کہ انھیں چیلنج سے سابقہ پیش آئے ۔ انھیں خطرات کا سامنا کرنا پڑے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page