Urdu book · رہنمائے حیات

مقابلہ کی ہمت

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

عافیت کی زندگی بظاہر سکون کی زندگی ہے۔ مگر عافیت کی زندگی کی یہ مہنگی قیمت دینی پڑتی ہے کہ آدمی کی شخصیت ادھوری رہ جائے۔ وہ اپنی امکانی ترقی کے درجہ تک نہ پہنچ سکے ۔ ۶ جنوری ۱۹۹۰ کے اخبارات جو خبریں لاتے ، ان میں سے ایک خبر یہ تھی کہ اظہر الدین کو اتفاق رائے سے قومی ٹیم کا کیپٹن مقرر کیا گیا ہے۔ وہ نیوزی لینڈ جانے والی انڈین کرکٹ ٹیم کے لیڈر ہوں گے۔ یہ بات کرکٹ حلقوں کے لیے انتہائی تعجب خیز تھی۔ کیوں کہ عام خیال تھا کہ یہ عہدہ سری کا نت کو دیا جائے گا۔ جو شارجہ کپ ، نہرو کپ اور پاکستان کے دورہ پر جانے والی حالیہ ٹیم کے کپتان رہے ہیں ۔ ۲۷ سالہ اظہر الدین حیدر آبادی کو کرکٹ میں ان کی مہارت کی وجہ سے ونڈر بولائے (wonder boy) کہا جاتا ہے۔ اظہر الدین ہندوستانی کرکٹ کے دوسرے کم عمر کپتان ہیں۔ ان سے قبل منصور علی خان پٹودی ۲۱ سال کی عمر میں قومی ٹیم کے کپتان بنائے گیے تھے۔ اظہر الدین کو جس چیز نے اس اعلیٰ عہدے پر پہونچایا ، وہ ان کی یہ صلاحیت ہے کہ چیلنج پیش آنے پر وہ بے ہمت نہیں ہوتے ، بلکہ مزید طاقت کے ساتھ اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔ دسمبر ۱۹۸۹ میں دورہ پاکستان کے آغاز میں اظہر الدین کا ٹیسٹ کیریئر خطرہ میں پڑ گیا تھا۔ کیوں کہ فیصل آباد ٹیسٹ کی پہلی باری میں وہ کوئی خاص اسکور نہ کر سکے تھے ، بلکہ صفر پر ہی آؤٹ ہو گئے تھے۔ لیکن دوسری باری میں شاندار سنچری بناکر انھوں نے اپنا ٹیسٹ کیریئر تباہ ہونے سے بچالیا۔ ٹائمز آف انڈیا (۶ جنوری ۱۹۹۰) کی رپورٹ کے مطابق، سلکشن کمیٹی کے چیرمین مٹر راج سنگھ ڈونگر پور نے کہا کہ اظہر الدین کو منتخب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ چیلنج کا مقابلہ کرنے کو محبوب رکھتے ہیں، جیسا کہ پاکستان کے دورہ میں دیکھا گیا جہاں وہ پہلے ٹیسٹ میں بچنے نہ جانے کے قریب پہونچ گیے تھے ۔ اور یہ قیادت کی نہایت اہم خصوصیت ہے : He loves getting out of challenging situations, as was seen on the tour of Pakistan where he was on the verge of being dropped from the first Test, and that's an important ingredient in leadership. یہ دنیا چیلنج کی دنیا ہے۔ یہاں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو چیلنج کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں ۔ یہ صفت کسی آدمی کے اندر جتنی زیادہ ہوگی اتنی ہی زیادہ بڑی کامیابی وہ اس دنیا میں حاصل کرے گا ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page