جواب کا صحیح طریقہ
Urdu book, p. 100
By Maulana Wahiduddin Khan
جواب کا صحیح طریقہ مولانا محمد ہاشم القاسمی نے بتایا کہ وہ ایک مقام پر گئے۔ وہاں ایک مسجد میں انھوں نے نماز پڑھی۔ اس کے بعد وہ وہاں بیٹھ گئے۔ اس وقت وہاں تقریباً پندرہ آدمی تھے۔ الرسالہ کا ذکر آیا تو حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: ”ہاں میں الرسالہ کو جانتا ہوں۔ وہ تو ایک نیم مذہبی پرچہ ہے اس کو خالص دینی پرچہ نہیں کہہ سکتے“۔ اس کے بعد انھوں نے با آواز بلند الرسالہ کے خلاف تقریر شروع کر دی۔ تا ہم مولانا قاسمی صاحب برہم نہیں ہوئے۔ انھوں نے خاموشی سے اپنی جیب سے تین روپیہ نکالا اور اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ بازار میں فلاں اسٹال پر الرسالہ فروخت ہو رہا ہے۔ وہاں سے ایک شمارہ لے کر آؤ۔ آدمی نے پوچھا کہ کس مہینہ کا شمارہ۔ انھوں نے کہا جس مہینہ کا بھی مل جائے۔ تھوڑی دیر کے بعد جولائی 1982 کا شمارہ ان کے ہاتھ میں تھا۔ اب مولانا قاسمی نے کہا: دیکھیے یہ جولائی 1982 کا الرسالہ ہے۔ اس کے بعد انھوں نے اس کے اوراق کھول کھول کر ایک ایک سرخی پڑھنی شروع کی اور مذکورہ بزرگ سے پوچھا کہ بتائیے ان میں سے کون سا مضمون آپ کے خیال میں نیم مذہبی ہے۔ عنوانات یہ تھے: جنت کا دروازہ، روزہ کی حقیقت، ہر طرف فریب، شناختی کارڈ کے بغیر۔ ”شناختی کارڈ کے بغیر“ کے الفاظ سن کر مذکورہ بزرگ فورا بولے ۔ اس کو دیکھیے یہ نیم مذہبی نہیں تو اور کیا ہے۔ شناختی کارڈ کا دین اور مذہب سے کیا تعلق۔ مولانا قاسمی نے کہا کہ آپ کے بیان کے مطابق یہ مضمون یقینی طور پر نیم مذہبی ہے۔ اب میں اس مضمون کو پڑھتا ہوں۔ آپ بھی سنیں اور سب حاضرین سنیں اور اس کے بعد فیصلہ کریں۔ اس مضمون کا تقریباً نصف حصہ ایک واقعہ پر مشتمل ہے۔ مولانا قاسمی جب نصف تک پہنچے تو مذکورہ بزرگ نے پھر بولنا شروع کیا۔ مولانا قاسمی نے کہا: آپ تھوڑی دیر رکيے۔ میں پورا مضمون پڑھ دوں۔ اس کے بعد آپ تبصرہ کریں۔ اس کے بعد انھوں نے اگلی سطریں پڑھنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader