راز حیات
Urdu book, p. 101
By Maulana Wahiduddin Khan
شروع کیں تو وہ سراسر آخرت سے متعلق تھا، اب جیسے جیسے وہ آگے بڑھ رہا ہے مذکورہ بزرگ ٹھنڈے ہوتے جا رہے تھے، یہاں تک کہ جب مضمون ختم ہوا تو وہ بالکل لاجواب ہو چکے تھے۔ تمام حاضرین کہہ اٹھے کہ یہ تو سراسر مذہبی بات ہے۔ اور نہایت مؤثر انداز میں ہے۔ پھر اس پر اعتراض کیا۔ عقل کا استعمال ایک صاحب پرنٹنگ پریس کا کام کرتے تھے۔ انھوں نے دہلی کے ایک سفارت خانہ کو اپنے کام سے اتنا گرویدہ بنا لیا کہ لمبے عرصہ تک اس سفارت خانہ نے اپنا چھپائی کا کام ان کے سوا کسی دوسرے پریس کو نہیں دیا۔ کوئی شخص جب پریس میں چھپنے کے لیے کتاب دیتا ہے تو اصل کتاب چھپنے سے پہلے پریس اس کو اس کا پروف دکھاتا ہے۔ پروف عام طور پر معمولی ڈھنگ سے بڑے بڑے کاغذ پر نکالے جاتے ہیں۔ اور منتشر اوراق کی صورت میں ناشر کو دے دئے جاتے ہیں۔ چنانچہ یہ پروف اصل چھپی ہوئی کتاب کا نہایت ناقص نمونہ ہوتے ہیں۔ ان سے چھپائی کی صحت اور غلطی تو معلوم کی جاسکتی ہے۔ مگر یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ کتاب چھپنے کے بعد کیسی ہوگی۔ مذکورہ پریس کے مالک کو پہلی بار سفارت خانہ سے ایک کتاب چھاپنے کو ملی تو انھوں نے پروف پیش کرنے کا نیا انداز اختیار کیا۔ انھوں نے تمام اوراق باقاعدہ پریس میں چھاپ کر نکالے ان کو عام طریقہ کے خلاف دونوں طرف چھاپا ۔ اس طرح پوری کتاب کا ہر فارم اچھے کاغذ پر چھاپ کر اس کو کتاب کی طرح موڑا اور اس کی جلد بندی کرا کے پوری کتاب کا ایک پیشگی نمونہ تیار کر دیا۔ انھوں نے پروف کے بجائے یہ کتاب سفارت خانہ کے سامنے پیش کی۔ سفارت خانہ کے ذمہ دار اس باقاعدگی کو دیکھ بہت خوش ہوئے اور اپنا چھپائی کا تمام آڈر ان کے حوالے کر دیا۔ چند سال کے بعد ایسا ہوا کہ کسی دوسرے پریس نے سفارت خانہ والوں سے کہا کہ جس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader