راز حیات
Urdu book, p. 105
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے، اس لیے اس کی رفتار سات سومیل فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ جب کہ راکٹ کی رفتار 25 ہزار میل فی گھنٹہ سے بھی زیادہ تھی۔ رفتار کے اس فرق کی وجہ سے ایسا ہوا کہ صرف دس سیکنڈ بعد راکٹ اس خوفناک آواز کی زد سے باہر جا چکا تھا۔ آواز سات سومیل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھی اور راکٹ 25 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بھاگ رہا تھا۔ اس فرق کا یہ نتیجہ ہوا کہ ابتدائی لمحات کے بعد راکٹ کے پھٹنے کی آواز خلا بازوں کے کنٹرول روم تک پہنچنا بند ہوگئی۔ خلا باز بھیانک آواز پیدا کرنے والی سواری میں سفر کر رہے تھے۔ مگر اس کے باوجود اس کی بھیانک آواز سے ان کے کان محفوظ تھے۔ اسی طرح ہر شخص اور ہر قوم کی زندگی میں یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ ناخوش گوار حالات اس کا پیچھا کرتے ہیں۔ اب اگر وہ اپنی جدوجہد کی رفتار اتنی تیز کر لے کہ ناخوش گوار حالات کے مقابلہ میں اس کی رفتار بڑھ جائے تو وہ ان کی زد سے نکل جائے گا، وہ ان سے اسی طرح محفوظ ہو جائے گا جس طرح خلا باز اپنے راکٹ کے پھٹنے کی طوفانی آواز سے محفوظ ہو گئے۔ زندگی کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ایک شخص یا قوم کے لیے ممکن ہے کہ یہاں بھی وہ ایسا سفر کر سکے جس میں وہ دوسروں کی زد سے محفوظ ہو۔ اگر دوسرے جلد بازی کی رفتار سے چل رہے ہوں اور آپ صبر کی رفتار سے چلنے لگیں۔ دوسرے منفی کارروائیوں کی بنیاد پر اٹھے ہوں اور آپ مثبت عمل کا طریقہ اختیار کریں۔ دوسرے مادی طاقت کے سہارے بڑھیں اور آپ اخلاقی طاقت کے زور پر کھڑے ہوں۔ دوسرے ظاہری انسان سے ٹکرا رہے ہوں اور آپ اندرونی انسان کو اپنا نشانہ بنائیں ۔ تو یقینی ہے کہ آپ لوگوں کی زد سے اسی طرح باہر ہوں گے جس طرح راکٹ سوار اپنے راکٹ کی بھیانک آواز سے۔ الٹی چھلانگ ایک واقعہ انگریزی اخبار میں ان الفاظ میں آیا ہے۔ In a daring escape from the Sydney, Australia, jail, a

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader