راز حیات
Urdu book, p. 104
By Maulana Wahiduddin Khan
برٹرینڈ رسل کا یہ جواب نظریہ ارتقاء کے پس منظر میں ہے۔ اس نظریہ کے مطابق انسان بندر کی نسل سے ہے۔ تاہم یہاں ہم کو اس نظریہ کی صحت سے بحث نہیں۔ یہ واقعہ ہم نے اس لیے نقل کیا ہے کہ یہ غیر مشتعل انداز میں جواب دینے کی ایک اچھی مثال ہے۔ جب کوئی شخص آپ کے خلاف کوئی سخت جملہ کہے یا آپ پر تیز وتند تنقید کرے تو اس وقت ایک صورت یہ ہے کہ آپ اس کو سُن کر بگڑ جائیں اور اس کی سخت بات کا سخت اور شدید انداز میں جواب دیں۔ یہ جواب دینے کا غیر سنجیدہ طریقہ ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ اشتعال انگیز بات سن کر مشتعل نہ ہوں۔ کوئی شخص خواہ کتنی ہی سخت کلامی کرے آپ اپنے توازن کو باقی رکھیں۔ آپ کا جواب ردعمل کا جواب نہ ہو بلکہ مثبت طور پر سوچا سمجھا ہوا جواب ہو۔ جواب کا پہلا انداز صرف اشتعال میں اضافہ کرتا ہے، جب کہ دوسرا انداز اشتعال کو ٹھنڈا کرنے والا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے آگ پر پانی ڈال دیا جائے۔ مزید یہ کہ دوسرا طریق جواب قائل کو خاموش کرنے کی بہترین تدبیر ہے۔ مذکورہ واقعہ میں برٹرینڈ رسل کا جواب جتنا موثر ثابت ہوا وہ اس وقت اتنا موثر نہ ہوتا جب کہ برٹرینڈ رسل نے ردعمل والا جواب دیا ہوتا۔ محفوظ سفر جولائی 1969 میں امریکا نے انسان بردار راکٹ چاند کی طرف بھیجا تھا۔ اس راکٹ کی خبروں میں بتایا گیا تھا کہ جب اس کی پہلی منزل کا انجن داغا گیا تو ایک بے حد ہولناک آواز پیدا ہوئی ۔ یہ آواز اتنی تیز تھی کہ اس نے ایک سومیل کے رقبہ کو ہلا دیا۔ مگر جو خلا باز اس راکٹ میں سفر کر رہے تھے، ان کو صرف دس سیکنڈ بعد یہ آواز سنائی دینا بند ہوگئی۔ وہ کان کے پردے پھاڑ دینے والی اس آواز سے محفوظ ہو کر اپنے سفر پر رواں ہوگئے۔ ایسا کیوں کر ہوا۔ اس کی وجہ انسان بردار راکٹ کی تیز رفتاری تھی۔ آواز معمولاً ہوا کے ذریعہ پھیلتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader