سب سے زیادہ خطرناک
Urdu book, p. 107
By Maulana Wahiduddin Khan
سب سے زیادہ خطرناک شیر کے ڈراؤنے چہرے کو دیکھ کر مشکل سے کوئی آدمی یقین کرے گا کہ اس پھاڑ کھانے والے درندہ سے بھی زیادہ خطرناک دشمن کوئی انسان کے لیے ہو سکتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان کا سب سے زیادہ خطرناک دشمن شیر یا بھیڑیا نہیں۔ اس کے سب سے خطرناک دشمن وہ بیکٹیریا ہیں جو اتنے چھوٹے ہیں کہ خالی آنکھ سے نظر نہیں آتے۔ یہ بیکٹیریا اتنی تیزی سے اپنی نسل بڑھاتے ہیں کہ موافق حالات میں صرف دس گھنٹوں کے اندر ایک کیڑا اپنی نسل کے دس ہزار جان دار پیدا کر لیتا ہے۔ شیر یا بھیڑیا کہیں کسی آدمی کو پھاڑتے ہوں گے مگر بیکٹیریا کی زد میں ہر آدمی ہر وقت ہوتا ہے۔ بیکٹیریا کی ہزاروں قسمیں ہیں۔ ہماری خوش قسمتی سے ان کی 99 فی صد تعداد یا تو بے ضرر ہے یا ہمارے لیے مفید ہے۔ مگر ایک فی صد تعداد جو مضر ہے وہ بھی اتنی خطرناک ہے کہ آن کی آن میں آدمی کی جان لے سکتی ہے۔ میڈیکل سائنس کے مطابق تمام مہلک بیماریاں اٹھیں بیکٹیریا کی پیدا کردہ ہوتی ہیں۔ بیکٹیریا انتہائی چھوٹے ہونے کی وجہ سے ایسے راستوں سے انسان کے اندر داخل ہو جاتے ہیں جن کا رو کنا عام طور پر آدمی کے بس میں نہیں ہوتا۔ لوگ عام طور پر بڑے بڑے حادثات کو جانتے ہیں اور ان کو اپنی تباہی کا سبب سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمارے "چھوٹے چھوٹے دشمن" ہم کو اس سے کہیں زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں جتنا کہ بڑے بڑے دشمن۔ اور ہماری سب سے زیادہ خطرناک دشمن خود ہماری اپنی چھوٹی چھوٹی کوتاہیاں ہیں جو ہم کو محسوس نہیں ہوتیں مگر وہ ہماری زندگی کو برباد کر کے رکھ دیتی ہیں۔ مثلاً ہر شخص کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے روزانہ اوقات کا ایک حصہ بغیر استعمال کیے ہوئے گزار دیتا ہے۔ ہر شخص روزانہ غیر ضروری مدوں میں کچھ نہ کچھ رقم خرچ کرتا رہتا ہے یہ وقت اور یہ سرمایہ ایک دن کے لحاظ سے تو بہت تھوڑا نظر آتا ہے، چند گھنٹے یا چند روپے لیکن اگر پورے سال اور آدمی کی پوری عمر کو ملا کر دیکھے تو معلوم ہوگا کہ ہر شخص اپنی تقریباً نصف عمر اور اپنی نصف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader