Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 108

By Maulana Wahiduddin Khan

کمائی کو بے نتیجہ چیزوں میں برباد کر رہا ہے۔ اس بربادی کو اگر پوری قوم پر پھیلائیے تو یہ نقصان اتنا زیادہ بڑھ جائے گا کہ اس کا شمار بھی ناممکن ہو۔ بے معنی اچھل کود یوپی کی ایک مسلم خاتون بیوہ ہوگئیں ۔ ان کی تین چھوٹی لڑکیاں تھیں۔ ایک لڑکا تھا جو باپ کے انتقال کے وقت نویں کلاس میں پڑھ رہا تھا۔ خاتون نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے لڑکے کو انجینئر بنائے گی ۔ اس نے شوہر کا پراویڈنٹ فنڈ خرچ کرکے اور خود بارہ بارہ گھنٹے روزانہ سلائی کا کام کر کے اپنے لڑکے کو پڑھانا شروع کیا۔ گھر کے حالات نے لڑکے کے اندر محنت کا جذبہ پیدا کیا۔ ہائی اسکول میں اس کو 71 فی صد نمبر ملے۔ انٹرمیڈیٹ میں لڑکے نے 76 فی صد نمبر حاصل کیے۔ اس کے بعد خاتون نے ہمت کرکے اپنے لڑکے کو علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں انجینئرنگ میں داخل کرا دیا۔ یہاں بھی لڑکا انتہائی محنت کے ساتھ پڑھتا رہا۔ انجینئرنگ کے پہلے سال سے لے کر چوتھے سال تک اس نے اس طرح پاس کیا کہ ہر سال اس کو 80 فی صد سے زیادہ نمبر ملتے رہے۔ لڑکے کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے لیے خاتون کا یہ منصوبہ بہت مہنگا تھا۔ اس مدت میں گھر کا اثاثہ ختم ہوگیا مکان گروی رکھنا پڑا۔ رات دن سلائی کا کام کرتے کرتے خاتون کی آنکھیں خراب ہوگئیں۔ 1981 اس لڑکے کا فائنل ائیر تھا۔ اگر وقت پر امتحان ہو جاتا تو لڑکا انجینئر بن جاتا۔ اس کی ماں نے اسی دن کی امید میں دس نہایت مشقت کے سال گزار دیے تھے۔ وہ اس امید میں جی رہی تھی کہ میرا لڑکا انجینئر بنے گا۔ پھر وہ کما کر گھر کا خرچ چلائے گا۔ قرضے ادا کرے گا۔ بہنوں کی شادی کروائے گا۔ اس کے بڑھاپے کا سہارا بنے گا۔ مگر اس سال یونی ورسٹی کے لیڈر لڑکوں نے یونی ورسٹی میں ایسے ہنگامے شروع کیے کہ امتحان ہی نہ ہو سکے۔ خاتون کی دنیا بنتے بنتے اپنے آخری مقام پر پہنچ کر اجڑ گئی (حسب روایت احمد رشید شروانی مطبوعہ الجمعیۃ 23 جون 1981)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page