کامیابی کا سادہ اصول
Urdu book, p. 116
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں تو ایک قسم کے تذبذب کا شکار رہتے ہیں ۔ وہ فیصلہ نہیں کر پاتے کہ کس دکان میں داخل ہوں ۔ ایسے وقت میں ایک شخص ہمدردانہ انداز میں اگر ان سے کہے کہ اندر تشریف لائیے تو گویا کہ اس نے ان کے تذبذب کو ختم کیا۔ اس نے ان کو فیصلہ کرنے میں مدد دی۔ ایسا آدمی بیشتر حالات میں چلنے والے آدمی کو اپنی دکان کے اندر بلانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ بیشتر لوگوں کے ذہن میں پہلے سے کوئی طے شدہ چیز موجود نہیں ہوتی ۔ اگر آپ اس راز کو جان لیں تو معمولی دانش مندی سے بہت سے لوگوں کو اپنا ہم نوا بنا سکتے ہیں ۔ اس اصول کو انھوں نے اپنی دکان میں استعمال کرنا شروع کیا۔ وہ اپنی دکان کے بیرونی حصہ میں بیٹھ جاتے اور ہر آنے جانے والے کے چہرے کو پڑھتے۔ یہاں تک کہ ان کی نظر اتنی پکی ہو گئی کہ وہ کسی آدمی کو دیکھ کر فوراً پہچان لیتے کہ یہ تالے کا گاہک ہے یا کسی اور مقصد سے سڑک پر چل رہا ہے۔ جس کے متعلق وہ اندازہ کرتے کہ وہ تالے کی لائن کی چیز خریدنا چاہتا ہے اس کو فوراً اپنی آواز سے متوجہ کرتے اور اس کو اپنی دکان کے اندر بلاتے ۔ اس طرح ان کی دکانداری اچانک کافی بڑھ گئی ۔ یہاں تک کہ وہ بازار میں سب سے زیادہ فروخت کرنے والے دکاندار بن گئے ۔ ترقی کا راز ہمیشہ سادہ اصولوں میں ہوتا ہے مگر انسان اکثر ترقی کو ایسی چیز سمجھ لیتا ہے جو کسی بہت بڑی چیز کے ذریعہ حاصل ہوتی ہو۔ آپ چند میٹھے بول سے، اپنے ہاتھ پاؤں کی محنت سے، اپنے محدود وسائل کو استعمال کرنے سے اور ایک کام کو مسلسل پکڑے رہنے سے کامیابی کے اعلیٰ مقامات تک پہنچ سکتے ہیں۔ حالانکہ ان میں سے کوئی چیز نہیں جو بہت بڑی ہو اور ایک عام آدمی اس کو حاصل نہ کر سکتا ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader