راز حیات
Urdu book, p. 115
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ناقص معلومات کی وجہ سے کس طرح ایک بات کسی کے ذہن میں کچھ سے کچھ ہو جاتی ہے۔ مذکورہ عرب کو ایک ہندوستانی نے نا واقفیت کی بنا پر چور سمجھ لیا حالانکہ وہ ایک مجاہد اور ایک تاجر آدمی تھا۔ وہ دوسروں کو دینے والا تھا، نہ کہ ان سے لینے والا۔ وہ سماج کا ایک کار آمد فرد تھا، نہ کہ سماج کار ہزن۔ ہر آدمی کے اوپر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کے بارے میں رائے قائم کرنے میں کبھی جلدی نہ کرے ۔ جب بھی اس کے سامنے کوئی بات آئے تو وہ اس کی پوری تحقیق کرے ۔ تحقیق سے پہلے ہر گز اس کے بارے میں اپنی زبان نہ کھولے۔ اگر کسی شخص کے پاس تحقیق کرنے کا وقت یا سامان نہیں ہے تو اس کے لیے دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ مذکورہ معاملہ میں چپ رہے، نہ یہ کہ ناقص معلومات کے تحت اس کے بارے میں بولنے لگے ۔ اس دنیا میں چپ رہنا بھی اتناہی ضروری ہے جتنابولنا۔ کامیابی کا سادہ اصول ایک صاحب نے تالے کی مارکیٹ میں دکان کھولی۔ وہ روزانہ دیکھتے تھے کہ بے شمار آدمی سٹرک پر آ رہے ہیں اور جا رہے ہیں۔ مگر ان کی اکثریت ان کی دکان کو دیکھتی ہوئی گزر جاتی تھی۔ ایک روزان کے ساتھ ایک واقعہ گزرا جس نے ان کو دکان داری کا راز بتا دیا۔ وہ کپڑا خریدنے کے لیے کپڑے کی مارکیٹ میں گئے۔ وہاں مسلسل بہت سی دکانیں کھلی ہوئی تھیں ۔ وہ ایک کے بعد ایک دکان سے گزر رہے تھے مگر ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کس دکان میں داخل ہوں ۔ اتنے میں ایک دکان دار نے ان کو اپنی دکان کے سامنے دیکھ کر کہا: ”آئیے جناب اندر آ کر دیکھئے“ یہ سن کر وہ دکان کے اندر داخل ہو گئے۔ اپنے اس تجربہ سے ان کی سمجھ میں آیا کہ مارکیٹ میں جو گاہک آتے ہیں ان کی اکثریت یا تو نئی ہوتی ہے یا کسی خاص دکان سے بندھی ہوئی نہیں ہوتی ۔ ایسے لوگ دکانوں کی لائن سے گزرتے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader